لبنان میں ریاستی دائرہ کار سے باہر ہتھیاروں کے خاتمے کے خواہاں ہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب نے بیروت میں رونما ہونے والے حالیہ پر تشدد واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ وہ لبنانی عوام کے ساتھ یک جہتی کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ مملکت کے مطابق وہ موجودہ صورت حال کا توجہ کے ساتھ جائزہ لے رہی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے جمعے کے روز جاری بیان میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لبنان میں ہتھیاروں کی نمائش اور ریاست کے دائرہ کار سے باہر اس کے استعمال کا خاتمہ کر کے امن کو یقینی بنایا جائے گا۔

مملکت نے زور دیا کہ ریاست کے اداروں کی مضبوطی بنا کسی استثاء تمام لبنانیوں کے مفاد میں ہے۔ استحکام اور اقتصادی ترقی لبنانیوں کا حق ہے۔

گذشتہ روز لبنان کے دارالحکومت بیروت میں غیر معمولی نوعیت کے تشدد کے واقعات اور جھڑپیں سامنے آئیں جن کی مثال خانہ جنگی کے بعد سے نہیں ملتی۔ اس دوران میں فائرنگ اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا گیا۔

حزب اللہ ملیشیا اور الامر موومنٹ کے عناصر نے سڑکوں پر کھلے عام بھاری ہتھیاروں کی نمائش کی۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

لبنانی صدر اور وزیر اعظم نے بحالیِ امن پر زور دیا ہے۔

لبنانی سیاست دانوں اور ارکان پارلیمنٹ نے امن و امان کی تیزی سے بگڑتی صورت حال کا ذمے دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے۔

کل جمعرات کو حزب اللہ اور امل موومنٹ (پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی جماعت) نے قصر العدل کے باہر مظاہروں کی کال دی تھی۔ یہ مظاہرے بیروت بندرگاہ پرہونے والے دھماکوں کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس طارق بیطار کو ہٹانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

جمعرات کے روز احتجاج کے دوران میں حزب اللہ اور امل موومنٹ کے مسلح عناصر نے دارالحکومت کے کئی علاقوں کو یرغمال بنا لیا اور وہ گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے۔ دریں اثنا فائرنگ کے واقعات میں چھ افراد مارے گئے۔ حزب اللہ نے نہ صرف نہتے لوگوں پر طاقت کا استعمال کیا بلکہ کھلے عام بھاری ہتھیارں کی نمائش بھی کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں