.

حزب اللہ اور بیروت بندرگاہ دھماکے کے مرکزی تحقیق کار کے بیچ معرکہ آرائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے بیروت بندرگاہ پر دھماکے کے مرکزی تحقیق کار مجسٹریٹ طارق البیطار کے خلاف معرکہ آرائی جاری ہے۔ حزب اللہ اور امل موومنٹ کے علاوہ کئی شخصیات البیطار کو تحقیق کار کی ذمے داری سے ہٹانے کے خواہاں ہیں۔ ان کے نزدیک البیطار غیر جانب دار نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ 4 اگست 2020ء کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں 210 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔

لبنان کے ایک سابق سفیر ہشام حمدان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "حزب اللہ مجسٹریٹ طارق البیطار کو اپنا بنیادی معرکہ شمار کر رہی ہے۔ حزب اللہ کے نزدیک اگر انہیں سبک دوش نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب حزب اللہ کی ناکامی ہے اور یہ اس کے لیے زور دار طمانچہ ہو گا"۔

حمدان نے باور کرایا کہ یہ معاملہ عدالتی نہیں رہا بلکہ سیاسی بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر طارق البیطار کے معرکے میں حزب اللہ کامیاب ہو گئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان حزب اللہ کی مسیحی حلیف جماعت 'فری پیٹریاٹک موومنٹ' کو ہو گا اور وہ حزب اللہ کے ساتھ اپنے اتحاد کو ختم کرنے کی طرف جا سکتی ہے"۔

لبنانی حکومت میں حزب اللہ اور امل موومنٹ کے وزراء اور ان کے حلیفوں نے دھمکی دی ہوئی ہے کہ اگر البیطار کو تحقیقات سے نہ ہٹایا گیا تو وہ حکومت سے علاحدہ ہو جائیں گے۔

اس سلسلے میں لبنانی "آئینی کونسل" (جوڈیشل باڈی) کے سابق سربراہ جسٹس عصام سلیمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ گیند کو کابینہ کے کورٹ میں پھینکنے کا مطلب معاملے سے نکلنے کا قانونی راستہ نہیں بلکہ سیاسی راستہ تلاش کرنا ہے۔ اس کا معنی بیروت بندرگاہ دھماکے کی تحقیقات کو لپیٹ دینا ہو گا۔

جسٹس طارق البیطار کو لبنانی خاتون وزیر انصاف میری کلو نجم کے فیصلے کے ذریعے مرکزی تحقیق کار مقرر کیا گیا تھا لہذا کابینہ کے پاس انہیں برطرف کرنے کا اختیار نہیں۔

بیروت بندرگاہ دھماکے کا قضیہ سیاسی سمت جا رہا ہے۔ بعد ازاں سیاست کے ذریعے باہر آیا جائے گا جو عدلیہ کے کام میں کھلی مداخلت شمار ہو گی۔

عدلیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس طارق البیطار کو تبدیل کرنے کے لیے وزیر انصاف کی آمادگی کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل میں سادہ اکثریت (کُل 8 میں سے 5 ارکان کے ووٹ) کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ آپشن خارج از امکان نظر آ رہا ہے کویں کہ مذکورہ کونسل مرکزی تحقیق کار کے کام کو سپورٹ کر رہی ہے۔

لبنانی صدارتی محل کے قریبی ذرائع کے مطابق کابینہ مرکزی تحقیق کار کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتی لہذا اس مسئلے کا حل عدلیہ سے متعلق ادارے کے ذریعے نکالا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں