.

گُم شدہ نابینا شخص کا ’فیس بک‘ کے ذریعے 21 سال بعد خاندان سے ملاپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پلیٹ فارم جہاں ایک طرف لوگوں کے سماجی روابط کا ایک ذریعہ ہیں وہیں ان کی مدد سے کئی گم شدہ لوگ اپنے پیاروں سے بھی مل جاتے ہیں۔

ایک ایسا ہی دلچسپ اورعجیب واقعہ مصرمیں سامنے آیا ہے جہاں ایک نابینا شخص اپنے خاندان سے گم ہونے کے 21 سال کے بعد دوبارہ اپنے خاندان سے جا ملا ہے۔ دو عشروں بعد ملنے والے شخص کی تلاش کے لیے اس کے اقارب نے ’‘فیس بک‘ پر اس کی تصویر اور دیگر تفصیلات کے اشتہارات دے رکھے تھے جن کی مدد سے اس کی تلاش میں مدد ملی۔

نابینا محمد ابراہیم حجازی کا تعلق مصر کی دقھلیہ گورنری کے میت سلسیل شہر کے نواحی علاقے کفر الجدید سے ہے۔ ابراہیم کی عمر 7 سال تھی جب وہ قاہرہ میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ چلتے ہوئے گم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اس کے خاندان نے اسے بہت تلاش کیا۔

ابراہیم کے ایک ہم سائے محمد سعد اللہ الجعلی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابراہیم ابھی بچہ تھا جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ قاہرہ میں چلتے چلتے غائب ہوگیا تھا۔ دونوں بھائی اپنی ماں سے ملنے جا رہے تھے جو شوہر سےطلاق ہونے کے بعد اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی۔ وہ اپنی ماں کے پاس ایک ماہ رہا۔ ایک ماہ بعد دارالحکومت قاہرہ کے رش میں کہیں کھو گیا۔ فیس بک کے ذریعے ملنے والی معلومات کے مطابق ایک شخص نے ابراہیم کو دیکھا اور اس کا تعارف کرنے کے بعد اسے اس کے خاندان اور ماں سے ملایا۔

ابراہیم کے خاندان کی ایک پڑوسی خاتون ام ہاشم عبدہ اسماعیل نے بتایا کہ ابراہیم اکثر اپنی ماں کے پاس اس سے ملنے جاتا رہتا تھا۔ جب وہ ایک شخص کو ملا تو اس نے اسے اس کے والد سے ملا دیا۔

پڑوسن نے بتایا کہ گم ہونے کے بعد ابراہیم کو اس کے والد نے کئی گورنری میں تلاش کیا۔ جگہ جگہ پولیس کو رپورٹ دیں مگر کہیں سےبھی اس کا کوئی پتا نہ چلا۔ آخر کار اسے یونیورسٹی کی طالبہ نے دیکھا اور فیس بک پرموجود پوسٹ کی تفصیل کے مطابق اس کی معلومات لیں۔ لڑکی نے بتایا کہ جس نوجوان کی اس کے والدین کو تلاش ہے وہ کفر الشیخ گورنری میں نابینا افراد کی کفالت کے ایک مرکز میں ہے اور اس کا نام محمد ابراہیم حجازی ہے۔ وہ اپنےوالد، بھائی اور ماں کی تلاش میں ہے۔ اس کے والد زندہ ہیں مگر ماں فوت ہوچکی ہیں۔

پڑوسیوں نے بتایا کہ ابراہیم کے والد نے نابینا افراد کے کفالت مرکزسے رجوع کیا جہاں اس کی ملاقات اس کے گم شدہ بیٹے سے ہوئی۔

الدقھلیہ کے گورنر ڈاکٹر ایمن مختار نے نابینا نوجوان کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد اس کے علاج میں ہرممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔