.

اسرائیلی وزیر اعظم لبنان اور عراق کے "ایرانی چنگل" سے آزاد ہونے کے حوالے سے پُر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ لبنان اور عراق "ایرانی پاسداران کے سخت شکنجے سے آزاد ہونے میں کامیاب ہو سکتے ہیں"۔

اتوار کے روز حکومت کے ہفتہ وار اجلاس میں اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں بینیٹ کا کہنا تھا کہ "حالات اور رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی جہاں بھی داخل ہوتے ہیں وہاں تشدد، غربت، عدم استحکام اور ناکامی کا دور دورہ ہوتا ہے"۔

بیروت میں گذشتہ برس 4 اگست کو بندرگاہ پر ہوانے والے زور دار دھماکے کی تحقیق کے سبب ان دنوں لبنانی دارالحکومت میں سخت کشیدگی اور تصادم کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ تحقیق میں اب تک بہت معمولی سی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس دوران میں مرکزی تحقیق کار جسٹس طارق البیطار کے خلاف منظم مہم جوئی جاری ہے۔ ان پرتشدد واقعات میں حزب اللہ اور امل موومنٹ شامل ہے۔

جمعرات کے روز بیروت میں رونما ہونے والے پر تشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب مرکزی تحقیق کار جسٹس طارق البیطار کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں دھرنا دینے والے اکٹھا ہوئے۔ اس روز کے واقعات دس برس کے دوران میں بدترین تھے۔ انہیں دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں میں 1975ء سے 1990ء تک ہونے والی فرقہ ورانہ خانہ جنگی کی یاد تازہ ہو گئی۔