.
جوہری ایران

جوہری مذاکرات میں وقت ضائع کرنے کے بجائے نتیجے تک پہنچنا چاہیے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعيد خطيب زاده کا کہنا ہے کہ ویانا مذاکرات آئندہ دنوں میں دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خطیب زادہ نے آج پیر کے روز کہا کہ "ہمیں جوہری مذاکرات میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ نتیجے تک پہنچنا چاہیے"۔

انہوں نے مزید کہا پابندیاں اٹھائے جانے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ترجمان کے مطابق ایران امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت سے مختلف دیکھنا چاہتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اس فیصلے کا اعلان کر چکے ہیں۔ تہران مذاکرات میں واپسی کے لیے پیشگی شرائط نہیں رکھے گا۔ بالخصوص امریکا کے لیے جو (جوہری) معاہدے سے نکل گیا اور پھر ہم پر ظالمانہ پابندیاں عائد کر دیں۔ ساتھ ہی واشنگٹن نے انتہائی دباؤ کی پالیسی اپنائی۔ ہم امریکا کے اقوال نہیں بلکہ افعال کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد اس بات کی ضمانت حاصل کرنا ہے کہ امریکا دوبارہ سے جوہری معاہدے سے باہر نہیں جائے گا"۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کی کمیٹی کے سربراہ وحید جلال زادہ نے زور دیا ہے کہ وزیر خارجہ امیر عبداللہیان یہ باور کرا چکے ہیں کہ "جوہری مذاکرات اسی نقطے سے شروع ہوں گے جہاں سے (ڈونلڈ) ٹرمپ چھوڑ کر گئے تھے"۔

"ہماری جوہری بات چیت 4 +1 ممالک کے ساتھ ہو گی ،،، اگر واشنگٹن اس میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ پابندیاں ختم کرے"۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق تہران جوہری معاہدے کے حوالے سے ویانا بات چیت میں جمعرات کے روز واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے رابطہ کار جوزپ بورل نے کل اتوار کے روز ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ وقت ضائع نہ کریں اور جوہری مذاکرات میں واپس آئیں۔