.

ایران پرحملے کے لیے اسرائیل کا ڈیڑھ ارب ڈالر کا بجٹ منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پرمُمکنہ حملے کی خاطر فوجی صلاحیت کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے.

اس بجٹ میں مختلف قسم کے ہتھیارجن میں جنگی طیارے، ڈرون طیارے، خفیہ معلومات کا حصول اور ایسے ہتھیاروں کا حصول شامل ہے جو ایران کی جوہری صلاحیت کی فول پروف اور زیرزمین تنصیبات کو نشانہ بنا سکیں۔

ایران کے لیے مختص بجٹ سنہ 2021 اور 2022 کے لیے مختص ہے۔ رواں برس اس بجٹ میں سے 60 فی صد اور آئندہ سال کے لیے 40 فی صد تقسیم کیا جائے گا۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں بتایا گیا ہے کہ جب حال ہی میں امریکا نے GBU-72 بموں کے کامیاب تجربات کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ بم زیر زمین اور انتہائی مضبوط عمارتوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان بموں کو F-15 ایگل بھاری لڑاکا سےگرایا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی رپورٹ نے بتایا گیا ہے کہ یہ بم ایرانی ایٹمی سائٹس پر حملے میں استعمال کیا جا سکتا ہے.

اسرائیل کے پاس F-15 Strike Eagle طیارے نہیں ہیں جو GBU-72 جیسے طیاروں کو لے جاسکیں۔

لیکن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے سنہ 2009 میں خفیہ طورپر اسرائیل کو چھوٹے ماڈل کے’GBU-28‘ بم فروخت کیے تھے۔ البتہ یہ معلوم نہیں کہ اس بم کی انتہائی مضبوط تنصیبات کو توڑنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔

موجودہ رپورٹ کے مطابق GBU-72 بموں کےنئے امریکی تجربات ایران کے لیے وارننگ ہے، تاکہ تہران کو ویانا مذاکرات میں سنجیدگی کے ساتھ شرکت پر مجبور کیا جاسکے اور مذاکرات سے فرارکے خطرات اور نتائج سے خبردار کیا جا سکے۔

ستمبر میں اسرائیلی آرمی چیف جنرل کوچاوی نے کہا تھا کہ تل ابیب نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری مزید تیز کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس مقصد کے لیے مختص کیا گیا ہے.

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ "ایران کا ایٹمی پروگرام فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الفاظ سینٹری فیوجزکو نہیں روک سکتے۔ ہم خود ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکیں گے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یایئر لبید سے ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے کہا کہ ہمارے پاس تمام آپشن کھلے ہیں۔