.

سعودی ملٹری انڈسٹریز کے عہدیداروں کی کورین سرمایہ کاروں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریزکے حکام نے کل سوموار کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں مقامی سطح پر فوجی اور دفاعی صنعتوں کے شعبوں میں 40 سے زائد سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سعودی عرب کی ملٹری انڈسٹری اتھارٹی کے گورنر انجینیر احمد العو ہلی اور سیکٹر میں اتھارٹی کے شراکت داروں، وزارت سرمایہ کاری سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی (سامی) کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں منعقدہ بین الاقوامی ایرو اسپیس اور دفاعی نمائش (ایڈیکس) کے موقع پر جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے اپنے تمام شراکت داروں کی حمایت اور ملک کو فوجی صنعت کے شعبے میں خود کفیل بنانے سے متعلق اپنی حکمت عملی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی صنعت کے سیکٹر کو ’لوکلائز‘ کرنے کے عمل کو جاری رکھنے اور اس شعبے میں اخراجات کے 50 فیصد سے زائد کی لوکلائزیشن کی شرح حاصل کرنے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس کا مقصد وژن 2030 کے اہداف کے مطابق فوجی صنعت کو مقامی سطح پرمنتقل کرنا ہے۔

اتھارٹی کے گورنر انجینیر احمد العوہلی نے وضاحت کی کہ یہ میٹنگ اتھارٹی کی جانب سے اس شعبے کی ترقی، لوکلائزیشن کی معاونت اور سرمایہ کاری کے شعبے کے ماحول کو متعارف کرانے اور اس کے مجموعی کام کی توسیع کے طور پر کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملٹری انڈسٹریزکی طرف سے مقامی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے دوسرے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی نے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ریگولیٹری فریم ورک مرتب کیا ہے تاکہ جو سعودی عرب میں فوجی صنعتوں کی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے کسی قسم کی مشکل اور رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی صنعت کو مقامی بنانے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقل کی راہ ہموار ہوگی۔ اس میدان میں سرمایہ کاری کے لیے سعودی عرب ایک پرکشش مقام ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور جنوبی کوریا کے درمیان تاریخی تعلقات 5 دہائیوں سے زیادہ پرعرصے پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک باہمی اعتماد کی فضا لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہ باہمی اعتماد سعودی وژن 2030 کاحصہ ہے۔