.

اسرائیل نے شام میں ایرانی پڑاؤ کے منصوبہ ساز کو نشانچی کے ہاتھوں ہلاک کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ ہفتے کے روز شام میں میں ہلاک ہونے والا سابق رکن پارلیمنٹ مدحت صالح بشار الاسد کی انٹیلی جنس کا افسر اور جنوبی شام میں ایرانی پڑاؤ کا منصوبہ ساز تھا۔

اس حوالے سے " ٹائمز آف اسرائیل " کی ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ مدحت صالح اسرائیل کی سرحد کے نزدیک عین التینہ گاؤں میں اسرائیلی فوج کے ایک نشانچی کی گولی کا نشانہ بنانا۔

اس سے قبل شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA نے بتایا تھا کہ اسرائیلی جیل کا سابق قیدی (مدحت صالح) اُس وقت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارا گیا جب وہ گولان کے پہاڑی علاقے میں اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔

اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" نے مقامی آبادی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت اسرائیلی ہیلی کاپٹر اور ڈرون طیارے علاقے میں موجود تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا فائرنگ زمینی سرحد سے یا پھر آسمان سے کی گئی۔

یاد رہے کہ 54 سالہ مدحت صالح کو 1985ء میں اسرائیل نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس پر گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل مخالف کارروائیوں کا الزام تھا۔ وہ اسرائیلی جیل میں تقریبا 13 برس گزارنے کے بعد 1998ء میں شام واپس لوٹا تھا۔ مدحت 2005ء تک پارلیمنٹ کا رکن رہا۔ بعد ازاں اسے بشار حکومت کی جانب سے گولان کے پہاڑی علاقوں بطور ذمے دار مقرر کر دیا گیا۔