.

شام میں امریکی فوجی اڈے پراپنی نوعیت کا پہلا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں امریکا اور اتحادی فوج کے التنف فوجی اڈے پربدھ کی شام کو بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا ہے۔ حملے کے نتیجے میں فوجی اڈے پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی گئی ہیں۔ شام میں کسی امریکی اڈے پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ قرار دیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتحادی فوج کے اس 55 کلو میٹر کے علاقے پر موجود اڈے پر ڈرون سے ہونے والے حملے کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے۔ اس اڈے پر امریکا اور برطانیہ کی فوج تعینات ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’سیرن آبرز ویٹری‘ کے مطابق یہ فوجی اڈہ ایک طرف اردن اور دوسری طرف عراق کی سرحد پر ہے۔

معلومات میں تصدیق کی گئی ہے کہ اڈے کے آس پاس میں تعینات اتحادی افواج نے ڈرون کے ذریعے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات فوجی اڈے کے اس حصے پرموجو فوج کو وہاں سے گاڑیوں کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔

دریں اثنا ، بین الاقوامی اتحاد سے منسلک ایک عراقی سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ 5 ڈرونز نے شام میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ حملہ شام کے اندر سے کیا گیا۔

حملے کے چند گھنٹے بعد امریکی حکام نے اطلاع دی کہ بدھ کے روز جنوبی شام میں ایک امریکی سائٹ پر دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں امریکی فوج کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ "سینٹ کام" نےایک بیان میں کہا کہ بیس کو مربوط کوشش کے تحت ڈرون طیارون کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔