.

لبنان کا تیل خطرے میں ہوا تو مناسب وقت پر کارروائی کریں گے: حسن نصراللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے المنار ٹی وی نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کے حوالے سے کہا ہے کہ لبنان کا تیل خطرے میں ہوا تو اس کے دفاع کے لیے مناسب کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دونوں ملکوں کے درمیان متنازع سمندری حدود میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کھدائی کا کوئی حق نہیں رکھتا۔

نصراللہ نے کہا کہ مناسب وقت پر مزاحمت جب لبنان کے تیل کو خطرے میں دیکھے گی تو اپنا کام کرے گی۔

اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی پر نصراللہ نے تبصرہ کیا کہ "ہم سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی ہم اس معاملے پر اپنا کوئی الگ سے موقف بیان کرتے ہیں۔ ہم اس معاملے میں اس لیے مداخلت نہیں چاہتےکیونکہ اس سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت نے لبنان کے تیل، وسائل اور لبنان کی گیس کو اسرائیلی عزائم سے بچانے کے لیے تیار کر رکھی ہے۔

حسن نصراللہ نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں مزید کہا کہ اگر دُشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس بحث کو حل کرنے سے پہلے اپنی مرضی کے مطابق کام کرسکتا ہے تو یہ غلط ہے۔

لبنان کی کابینہ نے یہ سوال اس وقت اقوام متحدہ کے مستقل نمائندے اور بین الاقوامی برادری میں دوسرے مندوبین کے سامنے اٹھایا جب اسرائیل کی جانب سے امریکی آئل فیلڈ سروسز گروپ ہیلی برٹن کو بحیرہ روم میں غیر ملکی ڈرلنگ کا ٹھیکہ دیا گیا۔ اس بارے میں وضاحت کی درخواست کی گئی کہ آیا ڈرلنگ آپریشن متنازع علاقے میں کیا جائے گا؟

لبنان اور اسرائیل کے درمیان ان کے علاقائی پانیوں کی سرحدوں کی حد بندی پر تنازعہ چل رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں لبنان اپنے بدترین مالی بحران کے دوران گیس کے قیمتی ذخائر نکال سکتا ہے۔

اسرائیل پہلے ہی بڑے غیر ملکی آئل فیل میں گیس پمپ کر رہا ہے۔ دونوں ممالک اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں گذشتہ سال اکتوبر سے امریکی نگرانی میں مذاکرات کر رہے ہیں۔