.

الجزائر کی 3 سابق خواتین وزراء جیل میں کس حال میں ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں سابق متوفی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے دور کی 3 خواتین وزراء ایک برس سے زیادہ عرصے سے جیل میں بند ہیں۔ ان تینوں کے خلاف بدعنوانی سے متعلق مقدمات ہیں۔ مذکورہ دور کے دیگر ذمے داران پر بھی اس نوعیت کے الزامات کی لپیٹ میں ہیں۔

سابق وزیر ہدی فرعون (37 سالہ) کو مالی بدعنوانی کے الزام میں چند ہفتے قبل عدالت نے 3 سال جیل کی سزا سنائی۔

ہدی فرعون کے علاوہ وزیر صنعت جمیلہ تامزریت (65 سالہ) اور وزیر ثقافت خلیدہ تومی (63 سالہ) القلیعہ جیل میں قید ہیں۔ یہ دونوں خواتین وزراء بنا عدالتی کارروائی دو سال سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

جیل میں ان کی حالت کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط نے القلیعہ جیل میں شعبہ خواتین کی ایک پہرے دار کے حوالے سے بتایا کہ ہدی فرعون نے ابتدا میں جیل کا کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔

جیل انتظامیہ آرام کے دو گھنٹے کے وقفے کے دوران میں ہدی اور جمیلہ کو دیگر خواتین قیدیوں کے ساتھ اختلاط کی اجازت نہیں دیتی۔ البتہ عام قیدی خواتین کے واپس اپنی کھوٹھریوں میں جانے کے بعد ان دونوں وزراء خواتین کو باہر آںے کی اجازت دی جاتی ہے۔ وقفے میں یہ دونوں مطالعے اور سرکاری ٹی وی پر پروگرام دیکھنے میں وقت گزارتی ہیں۔

دونوں سابق وزراء خواتین دست کاری کے شعبے میں جانے سے انکار کرتی ہیں۔

وزیر ثقافت خلیدہ تومی کے وکیل کے مطابق ان کی مؤکلہ کے ساتھ اس پوری مدت میں کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیدہ تنہائی کا شکار ہیں۔ وہ گھر میں اپنی بیمار ماں اور تین یتیم بیٹیوں کی نگرانی کی ذمے دار تھیں۔