.

نیوم قابل تجدید توانائی کے لیے بہترین مقام ثابت ہوگا: نظمی النصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے’نیوم‘ پروجیکٹ کے سی ای او انجینیر نظمی النصرنے کہا ہے کہ نیوم دنیا کا پہلا خطہ ہے جو صرف قابل تجدید توانائی کا استعمال کرتا ہے۔ یہ شمسی اور ہوا کی توانائی کے لیے دنیا کا بہترین مقام ہے۔

النصرنے ان خیالات کا اظہار الریاض میں گرین سعودی انیشی ایٹو کے سالانہ فورم کے پہلے سیشن میں شرکت کے موقع پر "العربیہ" کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔

النصر نے ‘نیوم‘ میں سبز ہائیڈروجن پیدا کرنے کی تاریخ کا بھی انکشاف کیا اور بتایا کہ سال 2025 تک وہ اس پروجیکٹ سے گرین ہائیڈروجن گیس پیدا کرنے کے قابل ہوں گے۔ نیوم کا حجم بیلجیم جیسے ملک کے برابر ہے۔ اس میں قابل تجدید اور متبادل توانائی کے 3 ذرائع پر انحصارکیا گیا ہے۔ اس میں گرین ہائیڈروجن پروجیکٹ شامل ہے جو اعلی درجے کے مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیاں اس پر عمل درآمد کریں گی۔

فورم کے آغاز میں ملکت نے انکشاف کیا کہ اس نے "میتھین پرعالمی عزم" میں شمولیت اختیار کی ہے جس کا مقصد عالمی میتھین کے اخراج کو 30 فیصد تک کم کرنا ہے۔ وژن 2030 تک کاربن کے اخراج کو سالانہ 278 ملین ٹن تک کم کردیں گے۔ یہ رضاکارانہ کمی سعودی عرب میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے مملکت کے اعلان کردہ اہداف کو دوگنا سے زیادہ ہے۔ اس طرح سرکلر کاربن اکانومی اپروچ کے ذریعے 2060 میں کاربن کے اخراج کو صفر تک لے جانا ہے۔

3 دن کے دوران سعودی عرب گرین سعودی انیشی ایٹو اور گرین مڈل ایسٹ انیشی ایٹو کو نافذ کرنے کے اپنا منصوبے پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقسام کے درخت کاشت کیے جائیں گے۔

گرین سعودی انیشی ایٹو کا اعلان رواں سال مارچ میں کیا گیا تھا۔31 اکتوبر سے 12 نومبر تک گلاسگو میں 26 ویں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP26) سے پہلے آیا ہے جس کا مقصد گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اخراج میں کمی پر اتفاق کرنا ہے۔