.

سعودی عرب:"گرین یوتھ اینی شی ایٹو" موسمیاتی تبدیلی کے حل کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں "گرین یوتھ" اقدام کے شرکاء نے کاربن کے اخراج کے منفی اثرات کی وجہ سے (ماحولیاتی تبدیلی) کے مسائل پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شفاف اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کی کوششوں کو دوگنا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ منفی اثرات مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ جیسے علاقوں پر پڑے ہیں۔

سوڈان یوتھ آرگنائزیشن فار کلائمیٹ چینج کی صدر نسرین الصائم اور رالی انٹرنیسنل کے چیف ایگزیکٹو جولیان اولیویہ اور جین کنکریٹ کے پبلک انویسٹمنٹ نے "گرین یوتھ" کے زیراہتمام "موسمیاتی تبدیلی کے لیے راستہ کی تلاش‘’ کے عنوان سے منعقدہ فورم میں شرکت کی۔

سوڈان یوتھ آرگنائزیشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہ نے کہا کہ سوڈان ان ممالک میں سے ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات خاص طور پر بجلی کی سروسزاور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی کمی کا سامنا کررہے ہیں۔

سیشن نے اس حقیقت پر بھی بات کی گئی کہ ماحولیاتی مسائل اور ان کے اثرات مختلف ماحولیاتی عناصر جنگلی حیات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

"گرین یوتھ" اقدام کے سربراہ اجلاس میں "انسانیت کی بھلائی کے لیے ٹیکنالوجی" کے عنوان سے ایک مباحثہ سیشن میں ہوا جس میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو تبدیلیوں کا سامنا کرنے اور نئے علوم میں داخل ہونے میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ فوائد حاصل ہیں۔ ان فوائد میں تکنیکی اور سائنسی پہلو شامل ہیں۔ نوجوانوں کے پاس ماحولیاتی حوالے سے استعمال ہونے والے آلات کو زیادہ جدت اور تخلیقی طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔