.

سعودی عرب: ’زبالا‘ کے مقام پر آثار قدیمہ کی کھدائی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ثقافتی ورثہ اتھارٹی نے شمالی سرحدی علاقے میں رفحا گورنری کے جنوب میں "زبالا" کے مقام پر آثار قدیمہ کی کھدائی کے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ یہ کھدائی مملکت کے علاقوں میں ثقافتی ورثہ کمیشن کی طرف سے نافذ کردہ آثار قدیمہ کی کھدائی کے کاموں اور منصوبوں کا حصہ ہے۔

شمالی سعودی عرب میں تاریخی زبیدہ ٹریل اسٹیشنوں میں سے ایک پر کھدائی کا یہ پہلا منصوبہ ہے جس کی منظوری وزیر ثقافت اور ہیریٹیج اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان کی جانب سے دی گئی تھی۔

زبیدہ ٹریل پروگرام گزشتہ رمضان میں شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے میں اس کے ٹریکس میں مطالعہ، تحقیق اور سائنسی جراید میں ان کی اشاعت شامل ہے۔ سعودی پریس ایجنسی "SPA" کے مطابق اس راستے کے اندر پگڈنڈی کو تلاش کرنے کے لیے دیگر نئے پروجیکٹس شروع کرنے پر کام کرنے بھی شروع کیا جائے گا۔

زبیدہ ٹریک

تاریخی ذرائع میں زبالا کا تذکرہ بھی کثرت سے تجارتی قافلوں اور حجاج کرام کی آمدو رفت کے ایک پڑاؤ کے طورپر کیا گیا ہے۔ یہ مقام کوفی حج روڈ کے اہم اسٹیشنوں میں سے ایک ہے جسے’درب زبیدہ‘ کہا جاتا ہے۔ عباسی دور میں اس مقام کو بے پناہ شہرت ملی اور یہ علاقہ ترقی اور خوش حالی کی معراج کو پہنچ گیا۔ ابتدائی عرب ذرائع نے اس میں قدیم تہذیب کے کچھ پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔ اس میں مختلف بازاروں کی موجودگی، شہر کی حفاظت کے لیے ایک قلعہ، اور ایک مسجد کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔

"زبالا" کے مقام پر2015 سے آثار قدیمہ کی کھدائی کا کام شروع ہوا۔ آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ٹیم نے ایک مستطیل مسجد سمیت متعدد پرانی عمارتوں کے ڈھانچے دریافت کیے۔

اس کے علاوہ وہاں سے مٹی کے برتنوں، سیرامکس اور دیگر آلات پر مشتمل متعدد نمونے جن میں دھاتیں، شیشے کی تیاری، ان کی سجاوٹ کے طریقے قدیم کاریگروں کی تخلیقات شامل ہیں۔ تاریخی ذرائع سے پتا چلتا ہے کہ زبالا اوراس کے اطراف میں اسلامی دنیا کے آس پاس کے شہروں کے درمیان تجارتی تعلقات کا بھی پتا چلتا ہے۔