.

یواے ای کی فضائیہ کے سربراہ کا دورہ،اسرائیل کی دوطرفہ تعاون کے فروغ پرنظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کے سربراہ نے پیر کے روزاسرائیل کا دورہ کیا ہےجسے میزبان ملک نے فضائی افواج کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کا پیش خیمہ قراردیا ہے۔

امریکا کے اتحادی دونوں ممالک نے گذشتہ سال دوطرفہ تعلقات کومعمول پرلانے کے لیے امن معاہدہ طے کیا تھا۔ایران کے بارے میں مشترکہ خدشات اور کاروباری منصوبوں کی خواہش نے انھیں ایک لڑی میں پرویا تھا۔تاہم اب تک وہ فوجی شعبوں کے بجائے سفارتی اورتجارتی محاذوں پرایک دوسرے کے زیادہ قریب آئے ہیں۔

قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کے کمانڈر میجرجنرل ابراہیم ناصرمحمدالعلاوی نے رواں ہفتے اسرائیل کی میزبانی میں ایک کثیرقومی فوجی مشق بلیو فلیگ میں بھی غیرعلانیہ شرکت کی تھی۔

ان کے اسرائیلی ہم منصب میجرجنرل امیکام نورکین نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’یہ فی الواقع ایک تاریخی دن ہے۔اس کی ہماری فضائیہ کے درمیان تعاون کے مستقبل کے لیے زبردست اہمیت ہے۔‘‘ اس بیان میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی کہ دونوں ملکوں کی فضائیہ میں کیا دوطرفہ تعاون ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے تجویزدی ہے کہ خلیجی ہمسایہ ممالک یواے ای اور بحرین کوایرانی ساختہ ڈرونز کے خلاف مشترکہ دفاع میں دلچسپی ہوسکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بحرین نے بھی گذشتہ سال اسرائیل سے باضابطہ طور پردوطرفہ تعلقات استوار کیے تھے۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ’’ایران یمن، عراق، شام اور لبنان میں اپنی آلہ کارتنظیموں کو سیکڑوں اورہزاروں مہلک ڈرونز سے لیس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘

تاہم ایران خطے بھر میں کسی بھی نیم فوجی دستے یا ملیشیاکو مسلح کرنے کی تردید کی ہے۔دریں اثناء شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل نے شام میں ایرانیوں سے وابستہ اہداف کے خلاف باقاعدہ حملے کیے ہیں اور اس نے سوموارکوایسا ہی ایک اورحملہ کیا ہے۔

اسرائیل کی قومی سلامتی کے ایک سینیرعہدہ دار نے گذشتہ ہفتے غیرملکی صحافیوں کوبریفنگ دیتے ہوئےکہا تھا کہ صہیونی ریاست کے عرب ممالک کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون میں ’’حالیہ مہینوں کے دوران میں بہتری اورشدت‘‘آئی ہے۔

انھوں نے ان ممالک کا نام لیا ہے اور نہ ہی تعاون کی تفصیل بتائی ہے۔ البتہ محض یہ کہا کہ اس سال اسرائیل کی سینٹکام میں شمولیت سے اس تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔سینٹکام مشرق اوسط کے لیے امریکاکی فوجی رابطے کی مرکزی تنظیم ہے۔