.

عراق میں داعش کے حملے میں متعدد افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کے شمال میں ایک گاؤں پر ہونے والے حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ سکیورٹی حکام نے حملے کی ذمہ داری مبینہ شدت پسند اسلامی تنظیم اسلامک اسٹیٹ پر عائد کی ہے۔

عراق میں سکیورٹی حکام نے 26 اکتوبر منگل کے روز دارالحکومت بغداد کے شمال میں دیالہ صوبے کے الرشاد نامی گاؤں پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نامی شدت پسند تنظیم سے وابستہ جنگجوؤں پر عائد کی ہے۔ اس حملے میں کم سے گیارہ افراد ہلاک اور مزید چھ بری طرح سے زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے مقامی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ گاؤں والوں نے جب تاوان دینے سے منع کر دیا تو داعش کے جنگجوؤں نے پہلے گاؤں کے دو افراد کو اغوا کر لیا اور پھر دیگر رہائشیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز کے بہت سے ملازمین اور حکام بھی اسی علاقے میں آباد ہیں اور مقامی آبادی کے بہت سارے لوگوں کا تعلق اسی قبیلے بنو تمیم سے ہے جس سے صوبے دیالہ کے گورنر کا تعلق ہے۔

ایک وقت تھا کہ اسلامی شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے میں کافی طاقتور تھا اور اس کے جنگجو ہر جانب پھیلے ہوئے تھے۔ تاہم امریکا کی مدد سے اس کے خلاف کارروائی ہوئی اور اس کے قبضے سے تمام علاقے واپس لے لیے گئے۔

اسلامک اسٹیٹ نے سن 2014 تک تیزی سے اپنے کنٹرول میں آنے والے وسیع تر علاقوں کو کھو دیا تھا اور پھر 2017 کے بعد سے عام شہریوں کے خلاف ان کے تشدد میں بھی کافی کمی آ گئی تھی۔ لیکن ان کی بہت سی خفیہ پناہ گاہیں برقرار ہیں جو کبھی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہیں تو کبھی پاؤر اسٹیشن یا پھر دیگر انفراسٹرکچر پر حملہ کرتے ہیں۔

اب بھی ان کی جانب سے تشدد کے اکا دکا واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اسی برس داعش سے متعلق شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق اور شام میں اب بھی تقریبا ًدس ہزار جنگجو فعال اور سرگرم ہیں۔ اسی برس جولائی میں داعش نے بغداد کے مضافات میں ایک بم دھماکہ کیا تھا جس میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی گروپ نے دارالحکومت بغداد میں شیعوں کے ایک بڑے محلے میں واقع مصروف ترین بازار میں دو خود کش حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ اس خود کش حملے میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔