.

کیا اسرائیل القدس میں امریکی قونصل خانے کو بجلی نہیں دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی انتظامیہ میں یروشلم کے میئر کا عہدہ رکھنے والے موشے لیون نے اسرائیلی میڈیا کی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ اگر بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کی مخالفت کے باوجود یروشلم میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تو یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانہ کی بجلی اور پانی سمیت میونسپل سروسز سے منقطع کردی جائیں گی۔

دائیں بازو کے موشے لیون نے کہا کہ سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے 2018 میں تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کیے جانے کے بعد قونصل خانے کو ضم کرنے کےبعد ایسا لگتا نہیں کہ اسے دوبارہ وہاں سے یروشلم منتقل کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے اس ماہ اس بات کا اعادہ کیا کہ قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے لیکن انہوں نےاس کے ٹائم ٹیبل کی وضاحت نہیں کی۔

فلسطینی کے مطالبات

اسرائیل کے آرمی ریڈیو پرایک سوال کے جواب میں کہ انہوں نے میونسپلٹی مستقبل میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانے کا پانی یا بجلی منقطع کرنے پر غور کر سکتی ہے؟ یا اس کا کچرا اٹھانے سے انکار کر سکتی ہے؟ تو لیون نے کہا کہ "ناممکن۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا"۔

موشے لیون نے مزید کہا کہ میونسپلٹی کو جہاں بھی سروسز فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی وہ خدمات فراہم کرے گی۔ یہ (خدمات) فراہم کرنا قانون کی دفعات کے مطابق ایک ذمہ داری ہے اور اس سے باز رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

قونصل خانہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی رابطے کا ایک مرکز تھا۔ اس سے قبل اسے امریکی صدر جو بائیڈن کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ نے بند کر دیا تھا۔

پیر کے روز فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی قیادت کے ایک اجلاس میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ کیے گئے اپنے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنائے جن میں سرفہرست یروشلم میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنا، پی ایل او کے امریکا میں دفاتردوبارہ کھولنا، واشنگٹن میں نمائندگی، اور فلسطینی نیشنل اتھارٹی اور عوام پر سابقہ انتظامیہ کی طرف سے عائد کیے گئے مالی محاصرے کا خاتمہ جیسے مطالبات شامل ہیں۔