.

امریکاکی لبنان کےرکن پارلیمان اوردوکاروباری شخصیات کے خلاف بدعنوانیوں پرپابندیاں عاید

سابق وزیراعظم سعدالحریری کی حمایت یافتہ شخصیت بھی پابندیوں کی زد میں آنے والے لبنانیوں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکاکے محکمہ خزانہ نےلبنان میں قانون کی حکمرانی میں خلل انداز ہونے کے الزام میں دوکاروباری شخصیات اور پارلیمان کے ایک رکن کے خلاف پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان پر مالی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات بھی عاید کیے گئے ہیں۔ان لبنانیوں میں سابق وزیراعظم سعدالحریری کا حمایت یافتہ ایک کاروباری شخص بھی شامل ہے۔

محکمہ خزانہ نے لبنان کے امیرکبیرتاجرجہاد العرب، دانی خورے اور پارلیمنٹ کے رکن جمیل السیّد کے خلاف نئے اعلان کے تحت پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے نام امریکا کی ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل کر لیے ہیں۔ان میں دانی خورے پہلے سے امریکی پابندیاں کا شکارسابق وزیرخارجہ جبران باسیل کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔

محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’لبنان کی کاروباری اور سیاسی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو ایگزیکٹوآرڈر (ای او)13441 کے مطابق نامزد کیاجارہا ہے۔اس انتظامی حکم کے تحت لبنان میں قانون کی حکمرانی میں خلل انداز ہونے والےافراد پر پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔‘‘

محکمہ خزانہ کی غیرملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ڈائریکٹراینڈریا گاکی نے کہا ہے کہ ’’لبنانی عوام ان تاجروں اورسیاست دانوں کی جاری مقامی بدعنوانیوں کے خاتمے کے مستحق ہیں،جنھوں نے اپنے ملک کوایک غیرمعمولی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ضروری اقتصادی اصلاحات نافذ کی جائیں اور لبنان کی بنیادوں کوختم کرنے والے بدعنوان طریقوں کا قلع قمع کیاجائے۔محکمہ خزانہ لبنان میں لاقانونیت سے نمٹنے کے لیے اپنے آلات استعمال کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرے گا۔‘‘

وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ امریکا ان تینوں افراد کے خلاف ’’لبنانی عوام کے ساتھ یک جہتی‘‘کے طور پرپابندیوں کی منظوری دے رہا ہے جو طویل عرصے سے جوابدہی، شفافیت اور مقامی بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔‘‘

محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ جہادالعرب ایک امیرکبیرتاجر اور کاروباری شخصیت ہیں۔انھیں سرکاری عہدے داروں کو کک بیک کے بدلے میں ٹھیکے دینے کی منظوری دی گئی تھی۔جہادالعرب نے قبل ازیں اس سال کے اوائل میں یہ اعلان کیا تھاکہ وہ لبنان میں اپنا کاروبار بند کررہے ہیں اورملک چھوڑکرکہیں جارہے ہیں۔انھیں لبنان کے بدعنوان ترین افراد میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔

محکمہ خزانہ نے العرب پرالزام عاید کیا ہے کہ وہ 2016 میں لبنان میں منعقدہ صدارتی انتخابات سے قبل اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔اس کے بدلے میں انھیں 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے دو سرکاری ٹھیکے دیے گئے تھے۔

محکمہ خزانہ کے اعلان میں العرب کوتفویض کردہ دو مختلف ٹھیکوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ان میں ایک کی مالیت ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالراور دوسرے کی مالیت 28 کروڑ 80لاکھ ڈالر تھی اور انھیں یہ ٹھیکے طاقتورسیاست دانوں کے ساتھ گہرے تعلقات کی بنا پر ملے تھے۔

پابندیوں کی زد میں آنے والی دوسری شخصیت دانی خورے امریکا کی جانب سے پہلے سے نامزد جبران باسیل کے قریبی کاروباری ساتھی ہیں۔لبنان کے سابق وزیرخارجہ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے انھیں بڑے عوامی ٹھیکے ملے ہیں۔انھوں نے لاکھوں ڈالرکمائےہیں جبکہ وہ ان معاہدوں کی شرائط کو بامعنی طورپرپورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘

خورے کوگنجان آبادی والے ضلع برج حمود میں لبنان کی ساحلی پٹی پر کچراٹھکانے لگانے کے لیے حکومت کی جانب سے 10 کروڑڈالر سے زیادہ مالیت کا ٹھیکا دیا گیا تھا۔ محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ خورے کی کمپنی پر’’زہریلا فضلہ بحیرہ روم میں پھینکنے، ماہی گیری کوزہرآلود مواد سے نقصان پہنچانے اور لبنان کے ساحلوں کو آلودہ کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے جبکہ وہ کچرے کے بحران کا ازالہ کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔‘‘

جميل السيد
جميل السيد

جہاں تک لبنانی پارلیمان کے زیادہ ناپسندیدہ ارکان میں سے ایک جمیل السیّد کا تعلق ہے، محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے بنک کاری کی داخلی پالیسیوں اورضوابط کو ختم کرنے کی کوشش کی اور ایک سینئر سرکاری عہدہ دار نے انھیں بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے 12 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم منتقل کرنے میں مدد دی تھی۔

وہ حزب اللہ اور شامی صدربشارالاسد کے مقربین میں سے ہیں۔ وہ لبنان کی جنرل سکیورٹی کے سابق سربراہ بھی ہیں۔انھوں نے لبنان کے سیکورٹی حکام کو 2019 کی عوامی تحریک کے دوران میں مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔اس وقت لوگ ان کے گھر کے سامنے احتجاج کررہے تھے۔