.

یورپی ریاستوں کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری میں توسیع روکنے کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی اور 11 دیگریورپی ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کوبسانے کے لیے قریباً 3000 مکانوں کی تعمیر کے منصوبے پر عمل درآمد روک دے۔

بیلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے، پولینڈ، اسپین اور سویڈن نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کے توسیعی منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔

ان یورپی ممالک نے دونوں فریقوں (اسرائیل اور فلسطین )پر زوردیا ہے کہ وہ دوطرفہ تعاون کو بہتربنانے اور کشیدگی میں کمی کے لیے حالیہ مہینوں میں کیے گئے اقدامات کی بنیاد پر آگے بڑھیں۔

دریں اثناءاسرائیل نے امریکی صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کے منصوبوں پر اب تک کی شدید ترین تنقید کو مسترد کردیاہے اور اس کو تیاگتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے لیے قریباً 3000 گھروں کی تعمیرکے منصوبے کوآگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل اپنے زیرقبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر تاریخی ، سیاسی اورتورات کے حوالے کی بنا پر حق ملکیت کا دعوے دار ہے۔اس نے اب تک چار لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ یہودی آبادکاروں کو کم وبیش تیس لاکھ فلسطینیوں کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے میں لابسایا ہے اور مزید یہودیوں کو بھی وہاں بسانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔