.
جوہری ایران

ایران اور امریکا یورپی ملکوں کے ساتھ اضافی جوہری مذاکرات پر تیار ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا کہنا ہے کہ وہ نومبر کے اواخر میں اپنے جوہری ترقیاتی پروگرام پر بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ محکمہ ان اطلاعات سے آگاہ ہے، جب کہ اس کے پاس مزید تفصیلات موجود نہیں کہ آیا دیگر فریق 2015ء کے بین الاقوامی معاہدے پر نئے مذاکرات پر تیار ہوں گے۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تشکیل دینے سے روکنا تھا، جس سمجھوتے کو 'جوائنٹ کمپری ھنسو پلان آف ایکشن' کا نام دیا جاتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''جیسا کہ ہم متعدد بار کہہ چکے ہیں، ہم ویانا جانے کے لیے تیار ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ 'جے سی پی او اے' پر مکمل عمل درآمد پر فوری طور پر رضامند ہو جائیں، جس کے لیے چھوٹی نوعیت کے معاملات کو صرف نظر کیا جائے جو جون میں بات چیت کے چھٹے مرحلے کے آخر میں حائل رہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''جیسا کہ ہم واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ موقع ہمیشہ کے لیے موجود نہیں ہوگا، جب کہ ایران نیوکلیئر پروگرام سے متعلق اشتعال انگیزی پر مبنی قدم اٹھاتا جا رہا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ وہ فوری طور پر اور اچھے جذبے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ویانا آئے گا''۔

سال 2015کے سمجھوتے میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین شامل تھے، لیکن 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہو گئے تھے اور انھوں نے پھر سے ایران کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ سمجھوتے میں شامل شقیں اس قدر ٹھوس نہیں ہیں کہ ہم ایران کو اس کے جوہری اسلحہ تشکیل دینے کے پروگرام سے روک سکیں۔

اس وقت سے لے کر اب تک، ایران کہتا رہا ہے کہ اس نے یورینئم کی افزودگی کی سطح 60 فی صد تک بڑھا دی ہے، لیکن 90 فی صد کی سطح تک نہیں لے گیا، جسے ہتھیار بنانے کی سطح خیال کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ایران نے متواتر اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

بدھ کے روز ایران کے نائب وزیر خارجہ، علی باقری نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ''ہم نومبر کے اواخر میں مذاکرات پھر سے شروع کرنے پر رضامند ہیں۔ آئندہ ہفتے، تاریخ کا اعلان کیا جائے گا''۔ وہ جوہری مذاکرات میں ایران کی جانب سے چیف مذاکرات کار ہیں۔

جب سے تہران میں سخت گیر ابراہیم رئیسی نے صدر کا انتخاب جیتا ہے، یورپی یونین اور عالمی طاقتیں کوشاں رہی ہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر ایران نیوکلیئر سمجھوتے میں موجود یقین دہانیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور یورینئم کی افزودگی کی بڑھی ہوئی سطح کو ختم کرنے پر رضامند ہو تو اس کے ساتھ پھر سے بات چیت ہو سکتی ہے۔

لیکن ویانا میں امریکا اور ایران کی بات چیت، جو مصالحت کاروں کے ذریعے سے جاری تھی، رئیسی کے انتخاب کے بعد اس کی پیش رفت میں خلل پڑ گیا تھا۔ گزشتہ چار ماہ سے بات چیت بند رہی ہے۔

امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے ایران، رابرٹ مالے نے پیر کے روز ایران کو متنبہ کیا کہ اگر ایران نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے آگے بڑھتا ہے، تو امریکہ کے پاس غیر علانیہ ''دیگر آپشنز'' موجود ہیں، حالانکہ بائیڈن کی انتظامیہ سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔