.

رُبع صدی سے نوادرات جمع کرکے میوزیم بنانے والے سعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کئی ایسے شہری ہیں جو نوادرات جمع کرنے کے شوقین ہیں اور برسوں سے وہ اپنے اس شوق کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ انہی میں ایک نام عبدالعزیز الرضیان کا ہے۔ عبدالعزیز نے آج سے پچیس برس قبل نودرات کی تلاش شروع کی اور آج وہ ایک بڑا ذخیرہ اپنے گھر میں محفوظ کرنے کے بعد اسے میوزیم کی شکل دے چکے ہے۔

عبدالعزیز الرضیان کا تعلق سعودی عرب کے وسطی علاقے ضرما سے ہے اورانہوں نے اپنے گھر میں بیش قیمت نوادرات کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کررکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الرضیان نے کہا ہے کہ اس کے گھر میں موجود میوزیم سیاحوں کی دلچسپی کا خاص مرکز بن گیا ہے۔ اس نے بتایا کہ میں نے پچیس سال قبل نودارت کی تلاش اور انہیں محفوظ کرنا شروع کیا۔ میں نایاب نوادرات کی تلاش میں قریہ قریہ سفر کیا۔

جب نوادرات کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تو میں نے سنہ 1439ھ کو اپنا ایک نجی میوزیم بنایا جس کے لیے 3 ہزار مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ہے۔ اس میوزیم میں ہاتھ سے لکھے پرانے نسخے اور پرانے دور کے نایاب نوادرات شامل ہیں۔

نوادرات کے 15 ہزار نمونے

عبدالعزیز الرضیان نے بتایا کہ اس نے گذشتہ اڑھائی دہائیوں میں پندرہ ہزار سے زاید نودرات اکھٹی کیں۔ ان میں پرانے ہتھیار، صنعتی آلات، پرانے زرعی آلات، قیمتی پتھر، کھانا پکانے کے پرانے برتن،آٹا چکی، اناج رکھنے والے تھیلے، پرانی الماریاں، بڑھئی کے استعمال کے پرانے آلات، نایاب کتابیں، ثقافتی اہمیت کی حامل نوادرات، خواتین کے بناؤ سنگھار کے لیے استعمال ہونے والی پرانی اشیا، نایاب اور پرانے سکے، خنجر، اور کلاسیکی کاریں شامل ہیں۔

عبدالعزیز الرضیان نے نہ صرف نوادرات جمع کی ہیں بلکہ انہوں نے پرانے طرز زندگی کے پر روشنی ڈالنے اور نئی نسل کو پرانے دور کے بارے میں آگاہی کے لیے کئی پروگرامات بھی منعقد کیے جن میں انہوں نے بتایا کہ پرانے دور میں لوگ کس طرح کی بودو باش رکھتے تھے۔