.

فوجی کُمک کے بعد شمالی شام پر ترکی کی فوج کشی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں فوجی کمک میں اضافے کے بعد انقرہ کی طرف سے سیاسی اور عسکری کشیدگی جاری ہے۔ انقرہ نے فوجیوں کی تازہ نفری اور ساز و سامان شمالی شام منتقل کیا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ کرد فورسز کا تعاقب کر رہا جب کہ ذرائع نے شمالی شام پر ترکی کے ایک نئے حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے اعلان کیا کہ ترک فوجیوں کی بڑی تعداد گذشتہ دو دنوں کے دوران تل ابیض میں پہنچائی گئی ہے۔ اس میں ترکی کی جانب سے جنگ کے قریب آنے کے بارے میں بات چیت کے ساتھ شمال مشرقی شام میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک نئی جنگ کو روکیں!

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف ادلب میں اسد رجیم کی پیش قدمی روکنے کے روسی وعدے کے باوجود کشیدگی جاری ہے۔ دوسری طرف تُرک صدرنے اپنے بیانات میں متعدد بار کہا ہے کہ ان کی افواج شام میں حکومت کے لیے حساس مقامات پر بمباری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت شام میں ایک اور جنگ کو روکے گی۔ ایک نئی جنگ جو ترکی کو نشانہ بنا کر نقل مکانی کی ایک اور لہر کا باعث بن سکتی ہے۔

محاذ جنگ پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب ترکی کی وزارت خارجہ نے ماسکو اور واشنگٹن پر کرد فورسز کو ترک سرحد سے کم از کم 30 کلومیٹر کے فاصلے تک پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا۔

بلومبرگ ایجنسی نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ترکی نے منگل کی رات شمالی شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف کارروائی کی تیاری کے لیے سینکڑوں اضافی فوجی تعینات کیے۔

سرحد کا دو تہائی حصہ بند کرنا

ان اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکی کا مقصد شام کے ساتھ اپنی 910 کلومیٹر طویل سرحد کے دو تہائی سے زیادہ کو بند کرنا اور کوبانی قصبے کے جنوب میں واقع علاقوں کو کنٹرول کرنا ہے۔ اسے عین الان بھی کہا جاتا ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ ایک اور ممکنہ مقصد کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) سے اعزاز قصبے کے قریب میناغ ایئر بیس پر قبضہ کرنا ہے۔ کرد پیپلز پروٹکشن یونٹس نے حملہ آور ترک افواج اور ان کے شامی باغی اتحادیوں پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردآن نے اس ماہ کے شروع میں اشارہ دیا تھا کہ وہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے حملوں کے ایک سلسلے کے بعد ایک نئی مہم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اسے انقرہ ترکی میں کرد باغیوں کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

بدھ کو آذربائیجان سے اپنے ملک واپس جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کو اس وقت سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہم اسی عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے،تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ترکی شام میں کوئی نیا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔