.

لبنانی صدرسفارتی بحران کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی صدر میشیل عون نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔انھوں نے اس خواہش کا اظہارسعودی عرب کی جانب سے بیروت سے اپنے سفیرکو واپس بلانے اورالریاض سے لبنانی سفیرکو بے دخل کرنے کے اعلان کے بعد کیا ہے۔

لبنانی صدر نے ہفتے کے روزایک ٹویٹ کے ذریعے یہ بیان وزارتی کرائسیس مینجمنٹ گروپ کے اجلاس کے بعد جاری کیا ہے۔اس میں سعودی عرب کے خلاف لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی کے متنازع بیانات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرغور کیا گیا ہے۔

لبنانی ایوان صدر نے بیان میں کہا ہے کہ ’’میشیل عون سعودی عرب کے ساتھ بہتردوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں اور وہ انھیں دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

جارج قرداحی نے گذشتہ ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجواپنا دفاع کررہے ہیں۔ انھوں نے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی جنگ کو’’بے سود‘‘قراردیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ بدھ کو ایک وضاحتی بیان میں کہاکہ ’ان کے تبصرے ان کے ذاتی خیالات کی عکاسی کرتے ہیں۔انھوں نے وزیرمقررہونے سے پہلے یہ بیانات دیے تھے مگراب وہ حکومتی پالیسی کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’میں عرب جنگوں کے خلاف ہوں۔ مجھ پر سعودی عرب دشمنی کا الزام غلط ہے، میں اس کومسترد کرتاہوں۔‘‘

تاہم ان کے سعودی عرب مخالف بیان پراسلامی تعاون تنظیم ، عرب لیگ اور خلیجی عرب ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور لبنانی حکومت سے وزیراطلاعات کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم سعودی وزارت خارجہ نے اس بحران کے باوجود مملکت میں مقیم لبنانی شہریوں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ سعودی عوام کے ساتھ بھائی چارے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور وہ مملکت کے سماج کا حصہ ہیں۔

وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے خیال میں جارج قرداحی کے خیالات مملکت میں مقیم لبنانی کمیونٹی کے نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔