.

حوثیوں کی گولہ باری سے تعز میں ایک ہی خاندان کے تین بچے جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل ہفتے کو ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے یمن کے علاقے تعز میں وحشیانہ گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم سے کم تین بچے جاں بحق اور چھ زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے الکمب محلے پر ہاورز گولے داغے جس سے 3 بچے جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں ایک بچے کی دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہیں اور اس کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔

دو روز قبل ملیشیا نے تعز کے مشرقی اور مغربی رہائشی محلوں کو توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ ان حملوں میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور شہریوں کی املاک کو بھاری نقصان پہنچا۔

مآرب میں بھاری نقصان

دوسری جانب حوثی ملیشیا نے ملک کے شمال مشرق میں واقع مآرب گورنری کے جنوب میں مختلف جنگی محاذوں پر گذشتہ گھنٹوں کے دوران بھاری نقصان اٹھایا ہے۔

یمنی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ علی الصبح جھڑپیں شروع ہونے کے بعد ملیشیا کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

فوج کے میڈیا سینٹر کے مطابق جمعہ کو فوج اور عوامی مزاحمتی قوتوں نے مآرب کے جنوب میں لڑائی کے دوران دشمن کے کئی حملے ناکام بنا دیے۔

فوج نے مارب کے مغرب میں الکسارا محاذ پر حوثیوں کا حملہ پسپا کردیا اور جوابی حملے میں حوثیوں کی کئی گاڑیاں تباہ اور متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے۔