.

پٹرول اسٹیشنوں پر سائبر حملے کے پیچھے اسرائیل اور امریکا ہو سکتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں شہری دفاع کے کمانڈر غلام رضا جلالی نے الزام عائد کیا ہے کہ اُس سائبر حملے کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے جس نے پورے ملک میں پٹرول کی فروخت معطل کر دی تھی۔ تاہم ان کا کہنا ہے تھا کہ تکنیکی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں۔

سائبر سیکورٹی کے ذمے دار جلالی نے یہ بات ہفتے کے روز سرکاری ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "تجزیاتی زاویے سے میں سمجھتا ہوں کہ صہیونی نظام ، امریکیوں اور ان کے ایجنٹوں نے ہی یہ کام کیا ہے"۔

ایران گذشتہ چند برسوں میں یہ باور کراتا رہا ہے کہ وہ سائبر حملوں (انٹرنیٹ کے ذریعے حملوں) کا نشانہ بننے کے امکان کے سبب ہائی الرٹ ہے۔ اس حوالے سے تہران اپنے سخت ترین دشمنوں امریکا اور اسرائیل کو ملامت کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ اسی دوران میں امریکا اور دیگر یورپی ممالک ایران پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ ان ممالک کے نیٹ ورکس کو معطل کرنے اور ان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

ایران میں ایندھن کی فراہمی کی خدمات میں مذکورہ تعطل منگل کے روز آیا تھا۔

جلالی کے مطابق مربوط تحقیقات کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ جولائی میں ایرانی ریلویز اور مئی 2020ء میں شہید رجائی بندرگاہ کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ارنا) نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ ملک میں تقریبا نصف یعنی 4300 کے قریب پٹرول اسٹیشنوں پر ایندھن کی فروخت دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔

ایران نے تقریبا ایک ہفتہ قبل اعلان کیا تھا کہ ایک وسیع سائبر حملے کے نتیجے میں ایندھن کے اسٹیشنوں کے کام میں تعطل آ گیا۔ اس کے سبب سبسڈی کارڈ کے ذریعے ادائیگی کا نظام معطل ہو جانے سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بے چینی اور اضطرابی صورت حال پیدا ہو گئی۔ ایران میں لاکھوں ڈرائیورز فیول کارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت سبسڈائزد پٹرول کی تقسیم کے واسطے ان کارڈز کا استعمال کرتی ہے۔