.

’خلائی محافظ‘، سعودی عرب میں مقامی سطح پر ڈرون کی تیاری کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے اتوار کے روز سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی کے ساتھ ایئر فورس محافظ (ڈرون) تیار کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پرایک اہم تکنیکی جدت پیدا کرنا، بغیر پائلٹ ہوائی جہازکے نظام کی تیاری اور اسے مقامی صنعت کے طور پر اپنانا ہے۔

سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی نے شہزادہ سلطان سنٹر فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ساتھ بھی ڈرونز کی تیاری پر کام کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جو کہ اس مرکز میں کئی تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں کے نتائج میں سے ایک ہے۔تاکہ اسے قومی صنعت کا درجہ دیا جا سکے اور مقامی صارفین کی ضرورت کو پورا کرنے اور مقامی سطح فوجی صنعت میں اس کی کھپت کو سنہ2030ء تک 50 فی صد تک پہنچایا جا سکے۔

فیلڈ سروس میں ڈرون کی طلب میں اضافہ

جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے گورنر انجینیر احمد العوہلی نے کہا کہ ایئر اسپیس گارڈ طیاروں کی تیاری کے معاہدے پر دستخط کرنے سے مملکت میں دفاعی نظام کی فوجی صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ فیلڈ سروس میں اس کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ تکنیکی سپورٹ اور انتہائی ہنر مند ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ مقامی شہریوں کو روزگار ملے گا۔ مُملکت میں فوجی صنعتوں کی لوکلائزیشن کو تحریک دینے میں مدد ملے گی۔ 2030 تک فوجی سازوسامان اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج مُملکت کے پاس جو کچھ ہے وہ فوجی اور دفاعی صنعت کی تعمیر بنیاد ثابت ہوگی۔

فوجی صنعتوں کی لوکلائزیشن

سعودی عرب ملٹری انڈسٹریز کمپنی کے ’سی ای او‘ انجینیر ولید ابو خالد نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایئر اسپیس گارڈ (بغیر پائلٹ طیارہ) منصوبے کی ترقی کے معاہدے پر دستخط اس شعبے میں ترقی میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایئر کرافٹ گارڈ" کی ترقی کے معاہدے کا مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جدید اور منفرد تکنیکی بنیاد کی تعمیر کرنا ہے۔ بغیر پائلٹ کے طیاروں کے نظام کی ترقی، تیاری اور لوکلائزیشن کے ذریعے مقامی دفاعی نظام کی تخلیق کی ایک سپلائی چین بیس کی تعمیر میں حصہ ڈالے گی جو خود کفالت کے حصول میں معاون ہوگا۔