.

جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت، وزیر ثقافت نے تصاویر جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کو سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے تاریخی شہر جدہ کی ترقی اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرنے والے فن پاروں کی تصاویر شائع کیں۔ان میں صدیوں پرانا پتھر کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے جس پر کچھ نقوش اور عبارتیں درج ہیں۔

وزیرثقافت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے دوران وضاحت کی کہ یہ تصاویر ایک تجارتی عمارت اور کھوکھے کو ہٹانے کے بعد سامنے آئیں۔ آرٹ کا یہ نمونہ 1981 میں عظیم آرٹسٹ عبدالحلیم رضوی تیار کیا تھا۔

تصویروں میں سجاوٹ کو "مچھلی" کی شکل میں دکھایا گیا تھا اور متعدد پتھروں میں تراشے گئے جملے جدہ میں گذرے وقت کی زندگی کا اظہار کرتے تھے۔

جدہ کی تاریخی ترقی

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے تاریخی جدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت "تاریخی جدہ کو زندہ کرنے" کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ جدہ کی ایک طویل تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔ کچھ مورخین اس کی بنیاد تقریباً 3000 سال پر محیط قرار دیتے ہیں۔ اسکالرز کی جانب سے نوادرات کے مطالعات پتا چلتا ہے کہ پتھر کے زمانے سے اس علاقے میں لوگ رہتے تھے۔

مشرقی جدہ میں وادی بریمان اور شمالی جدہ میں وادی بویب میں ثمودی دور کی کتابت اور آثار ملت ہیں۔

منصوبہ ولی عہد کی تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی میں دلچسپی کے تناظر میں سامنے آیا ہے تاکہ وژن 2030 کے مقاصد کے حصول اور مملکت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک کے طور پر عرب اور اسلامی گہرائی کو ظاہر کیا جا سکے۔