.

خلیج بحران: یمن کا بھی لبنان سے اپناسفیر واپس بلانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن نے بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طورپر لبنان میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔

یمن کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی کے ملک میں جاری جنگ کے بارے میں متنازع بیان کے ردعمل میں کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ہم ایرانی منصوبے کو مستردکرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے تاکہ یمن خطے میں استحکام کامشعل بردار بن سکے۔‘‘

جارج قرداحی کے یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حق میں متنازع بیانات پر خلیجی عرب ممالک اور لبنان کے درمیان ایک سفارتی بحران پیدا ہوچکا ہے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت نے بیروت میں تعینات اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے اور لبنانی سفیروں کو بے دخل کردیا ہے۔یواے ای اور بحرین نے لبنان میں مقیم اپنے شہریوں کو بھی فوری وطن لوٹنے کی ہدایت کی ہے۔

جارج قرداحی نے اگست میں ایک انٹرویومیں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف عرب اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت کو’’بے سود‘‘ قراردیا تھا۔انھوں نے گذشتہ سوموار کو نشر کیے گئے اس متنازع انٹرویو میں کہا تھا کہ’’حوثی بیرونی جارحیت کے خلاف اپنادفاع کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نےاتوارکو ایک بیان میں کہاتھاکہ اس تبصرے پران کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انھوں نے بالاصرار کہا کہ لبنانی کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے انھوں نے جوکچھ کہا تھااور جو تبصرے کیے، وہ ان کے ذاتی خیالات کے عکاس تھے۔