.

ایران میں اہم مذہبی مرجع کا تمام ممالک کے ساتھ تعلقات پر زور ، سخت گیر حلقے چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ماہ 21 اکتوبر کو ایران کی ایک اہم ترین مذہبی شخصیت آیت اللہ صافی کلبائکانی کی جانب سے دیے گئے بیان کے پس منظر میں برپا ہنگامے کی بازگشت ابھی تک جاری ہے۔ کلبائکانی نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف سے ملاقات میں دنیا کے "تمام ملکوں" کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کے ساتھ "ناراضی" ایرانی عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔

ایران کے سخت گیر روزنامے 'کیہان' نے کلبائکانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان درست نہیں۔ اخبار کے مطابق دشمن کے نیٹ ورک نے اس بیان کا فائدہ اٹھایا۔

کلبائکانی کا بیان ایرانی اسپیکر قالیباف کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ مذہبی شخصیت کا کہنا تھا کہ "میں اقتصادی صورت حال اور لوگوں کے مسائل کی وجی سے نہایت تشویش کا شکار ہوں"۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ تہران اور دیگر ممالک کے بیچ تعلقات کا منقطع ہونا ایرانی عوام کی خراب معاشی صورت حال سبب ہے۔

ایران میں "شیخ الفقہاء" قرار دیے جانے والے کلبائکانی کا بیان میڈیا میں وسیع پیمانے پر پھیلا۔ اس بیان نے ایرانی نظام کے ہمنوا کئی حلقوں کو چراغ پا کر دیا۔ اسی بنیاد پر رہبر اعلی علی خامنہ ای کے زیر انتظام اخبار "كيهان" نے اسپیکر قالیباف کی کلبائکانی سے ملاقات کے متعلق کوئی خبر شائع نہیں کی جب کہ اخبار نے دیگر مذہبی شخصیات سے قالیباف کی ملاقات کی کوریج دی تھی۔

اسی طرح 26 اکتوبر کو سخت گیر ویب سائٹ "رجا نيوز" نے بھی ایک مضمون میں قالیباف سے ملاقات میں کلبائکانی کی نصیحتوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ یہ مضمون ایک مذہبی شخصیت "مہدی جمشیدی" نے لکھا۔ مضمون نے کلبائکانی کے ہمنوا مذہبی رہ نماؤں میں شدید بے چینی پھیلا دی۔ مضمون میں کلبائکانی کے بیان کو "سر سے پاؤں تک غلط تجزیہ" قرار دیا۔

دوسری جانب اس تنقید اور نکتہ چینی کے نتیجے میں کلبائکانی کے ہمنوا اور حامی حلقوں کی جانب سے بھرپور ردود عمل سامنے آئے ہیں۔ مذہبی شخصیت رضا استادی نے "رجا نیوز" ویب سائٹ پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری طور پر معذرت پیش کرے۔

ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کے پورے حسن خمینی نے انسٹاگرام پر کہا ہے کہ کلبائکانی کا شمار اُن "سینئر مذہبی شخصیات" میں ہوتا ہے جو انفرادی انا یا کسی طبقے کی چاہت کی بنیاد پر بات نہیں کرتی ہیں۔

سابق صدر حسن روحانی کے مطابق اسلام اور ایرانی نظام کا دفاع کرنے والی آیت اللہ صافی کلبائکانی جیسی شخصیت درحقیقت انقلاب اور مزاحمت کا معیار ہیں لہذا ہمیں ان کی وساطت سے انقلابی ہونے کا دعوی کرنے والوں کا جائزہ لینا چاہیے"۔

صافی کلبائکانی کے دفتر سے اتوار کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہبی شخصیت پر تنقید کے حوالے سے کسی فرد یا ادارے کے خلاف دعوی دائر نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 103 سالہ آیت اللہ صافی کلبائکانی ایران میں ایک اہم ترین شیعہ مرجع ہیں۔ وہ مذہبی اور سیاسی مواقع پر وقتا فوقتا اپنی آراء کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں سرکاری اور غیر سرکاری ذمے داران سے سرکاری اور غیر سرکاری ملاقاتیں بھی کرتے ہیں۔

کلبائکانی نے 1979ء میں ایران میں مذہبی نظام کی تاسیس کے بعد اس کے دفاع میں ملحوظ خاطر کردار ادا کیا تھا۔ خمینی نے انہیں نظام حکومت میں اہم ذمے داریاں بھی سونپی تھیں۔ کلبائکانی نے ایرانی نظام حکومت پر کبھی تنقید نہیں کیا تاہم وہ کبھی کبھار امور کی اصلاح کے لیے نصیحتیں پیش کرتے ہیں۔ البتہ ایسا لگ رہا ہے کہ رہبر اعلی علی خامنہ ای کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت ایرانی نظام کے ہمنوا حلقے کی جانب سے تنقید کو برداشت نہیں کرے گی۔