.

ایران سے نمٹنے کے لیے اسرائیل اور امریکا وسیع تر بات چیت پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کے جوہری عزائم سے نمٹنے کے حوالے سے اپنے امریکی ہم منصب لائڈ آسٹن سے بات چیت کی ہے۔

منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں گینٹز نے بتایا کہ "امریکی وزیر دفاع کے ساتھ بات چیت میں اسرائیلی امریکی سیکورٹی اور عسکری اداروں کے بیچ مشترکہ رابطہ کاری زیر بحث آئی"۔

گینٹز کے مطابق گفتگو میں خطے میں ایرانی اڈوں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ علاوہ ازیں دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی بات چیت کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی اتفاق رائے ہوا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن نے اتوار کے روز CNN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جوہری معاہدے میں ایران کی واپسی کے حوالے سے امریکا کا برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کے ساتھ مکمل اتفاق ہے تاہم یہ بات واضح نہیں کہ آیا تہران سنجیدہ طریقے سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ مئی 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کو جوہری معاہدے سے الگ کر کے ایران پر دوبارہ سے کڑی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس پیش رفت کے جواب میں تہران نے معاہدے میں درج یورینیم کی افزودگی پر عائد قیود کی خلاف ورزی شروع کر دی۔

ایران یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کو بچانے کے واسطے نومبر میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ ویانا مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے تیار ہے۔ یہ مذاکرات رواں سال جون میں معطل ہو گئے تھے۔

ویانا بات چیت کا مقصد واشنگٹن کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانا اور اس کے مقابل تہران کی جانب سے جوہری معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔