.

سعودی عرب نے قرداحی کے تبصروں پرلبنان مخالف جنگ برپاکردی:حزب اللہ کادعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اطلاعات جارج قرداحی کے متنازع تبصروں کے جواب میں سعودی عرب کے اقدامات لبنان کے خلاف ’جنگ چھیڑنے‘ کے مترادف ہیں۔

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ تحریک کے پارلیمانی بلاک کے ترجمان حسن عزالدین نے این بی این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ’’جارج قرداحی کے بیان پرسعودی عرب کاردعمل جنگ چھیڑنے کے مترادف ہے اورلبنان اوراس کےعوام کے خلاف جلدبازی میں اقدامات کا کوئی جوازنہیں ہے۔‘‘

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گذشتہ اتوارکو العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ’’یہ بحران قرداحی کے بیانات سے بھی بڑا ہے اور بنیادی بحران تو لبنان کی سیاست میں حزب اللہ کا بڑھتا ہوا اثرونفوذ ہے۔‘‘

جارج قرداحی کے یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف جنگ آزما حوثی جنگجوؤں کے حق میں متنازع بیانات پر خلیجی عرب ممالک اور لبنان کے درمیان ایک سفارتی بحران پیدا ہوچکا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین ،کویت اور یمن نے بیروت میں تعینات اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے اور لبنانی سفیروں کو بے دخل کردیا ہے۔یواے ای اور بحرین نے لبنان میں مقیم اپنے شہریوں کو بھی وطن لوٹنے کی ہدایت کی ہے۔

جارج قرداحی نے اگست میں ایک انٹرویومیں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف عرب اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت کو’’بے سود‘‘ قراردیا تھا۔انھوں نے گذشتہ سوموار کو نشر کیے گئے اس متنازع انٹرویو میں کہا تھا کہ’’حوثی بیرونی جارحیت کے خلاف اپنادفاع کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نےگذشتہ اتوارکو ایک بیان میں کہاتھاکہ اس تبصرے پران کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انھوں نے بالاصرار کہا کہ لبنانی کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے انھوں نے جوکچھ کہا تھااور جو تبصرے کیے، وہ ان کے ذاتی خیالات کے عکاس تھے۔

لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے اپنے وزیراطلاعات قرداحی کے متنازع تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے سفارتی مضمرات پرقابو پانے کی کوشش کی ہے اور اس بات پر زوردیا ہے کہ ان کا حکومت کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میقاتی نے جمعرات کوقرداحی پر ایک مرتبہ پھرزوردیا کہ وہ لبنان کے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔انھوں نے کہا کہ’’میں وزیراطلاعات سے اپنامطالبہ دُہراتاہوں؛وہ مؤقف اپنائیں جواختیارکرنے کی ضرورت ہے اور قومی مفاد کو ترجیح دیں۔‘‘