.

"سعودی ری فنانسنگ" کا ہاؤسنگ فنانس کے لیے 24 ارب ریال کی رقم کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے رئیل اسٹیٹ ری فنانس کمپنی میں بزنس اور کیپٹل مارکیٹس کے ’سی ای او‘ مجید العبدالجبار نے توقع ظاہر کی ہے کہ 2022 کے آخر تک کمپنی کا پورٹ فولیو 24 بلین ریال تک پہنچ جائے گا۔

العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں العبدالجبار نے مملکت میں رئیل اسٹیٹ فنانس مارکیٹ کو گہرائی تک وسعت دینے کے مقصد کے لیے سعودی بینکوں کی اکثریت کے ساتھ معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی 2022 میں 500 ملین سے ایک ارب ڈالر مالیت کے بین الاقوامی سکوک جاری کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

سعودی ریئل اسٹیٹ ری فنانسنگ کمپنی جو مکمل طور پر پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے مملکت میں رئیل اسٹیٹ فنانسنگ کے پہیے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

عبدالجبار نے وضاحت کی کہ بینک الجزیرہ کے ساتھ حالیہ معاہدہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ کمپنی پرائمری مارکیٹ سے رقم لے گی اور ثانوی مارکیٹ کو منی مارکیٹ کے ذریعے سپورٹ کیا جائے گا۔ اس کا مقصد گھروں کے مالک سعودی شہریوں کے لیے مالی امداد میں اضافہ کرنا اور فنانسنگ کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

الجبار کوتوقع ہے کہ ان کی کمپنی سعودی عرب کے بیشتر بینکوں کے ساتھ الجزیرہ بنک کی طرز پر معاہدے کرے گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بینک الجزیرہ کے ساتھ مشترکہ تعاون کا معاہدہ 300 ملین ریال سے زیادہ کی مالیت کے ساتھ بینک سے وابستہ ایک رئیل اسٹیٹ فنانسنگ پورٹ فولیو کی خریداری کے زمرے میں شامل ہے۔ یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان پچھلے معاہدے کی توسیع کا حصہ ہے جس میں ری فنانس رئیل اسٹیٹ فنانس پورٹ فولیوز کی کل مالیت 480 ملین ریال تک پہنچ گئی۔