.

سعودی عرب کا عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے تمام ممالک سے بین الاقوامی سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نائب مندوب محمد العتیق نے سنہ2001 میں سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کی منظوری کی بیسویں سالگرہ اور انسداد دہشت گردی کمیٹی کے قیام کی یاد میں منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب میں کیا۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق خطاب کے آغاز میں العتیق نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب دہشت گردی، اس کی مالی معاونت کے انسداد اور پرتشدد انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ممالک، بین الاقوامی برادری، علاقائی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2002ء سے سعودی عرب نے ایک مستقل قومی کمیٹی تشکیل دی ہے جو دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کی مالی معاونت اور قومی پالیسیوں کو مربوط کرنے سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد اور ان کی پیروی کررہی ہے۔اس کا مقصد سلامتی کونسل کی قراردادوں پر تیز رفتار اور موثر عمل درآمد کرنا ہے۔ ان قراردادوں میں 1373 اور اس کے متعلقہ بعد کی قراردادیں شامل ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ نے کئی بار مملکت کا دورہ کیا ہے۔ آخری دورہ نومبر 2018 کو کیا گیا جب کہ پہلا دورہ 2006 میں ہوا تھ۔ اس پروگرام میں سعودی یمنی سرحد کا دورہ بھی شامل تھا جو ایک حقیقی خطرہ تھا اور اب بھی ہے۔

العتیق نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ ڈائریکٹوریٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی پیشرفت اور کئی پہلوؤں میں اس کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ان پہلوؤں میں تکنیکی مدد فراہم کرنے میں مملکت کی قابلیت اور کمال کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے مجاز حکام کے ساتھ ساتھ ممالک، اداروں اور تنظیموں کے ساتھ کام اور ہم آہنگی جاری ہے۔

العتیق نے کہا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے مرکز (UNCCT) کو 110 ملین ڈالر کی مدد فراہم کرنے، اس کے مشاورتی بورڈ کی سربراہی اور مرکز کی بہترین کارکردگی کی جستجو کی حمایت کرنے میں مملکت کا تعاون کا حصہ ہیں۔