.

بغداد ایک بار پھر میدان جنگ بن گیا،ایک احتجاجی ہلاک، 125 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک عراقی سیکیورٹی ذریعے نے خبر رساں ادارے’ اے ایف پی‘ کو بتایا کہ بغداد میں احتجاج کے دوران ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جب کہ عراق میں اقوام متحدہ کے مشن نے انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے درمیان تشدد اور ہلاکتوں میں اضافے پر افسوس کا اظہار کیا اور گرین زون کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تشویش ظااہر کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور احتجاج کے دوران تشدد بند کریں۔

جمعے کو عراقی سیکیورٹی فورسز اور انتخابی نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مظاہرین نےبغداد نے گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی سیکیورٹی فورسز نے گرین زون پر قابو پالیا اور مظاہرین کو وہاں سے جانے پر مجبور کردیا۔ گرین زون کے گیٹ کے سامنے سے مظاہرین پہلے ہی پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

عراقی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جھڑپوں میں 125 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 27 عام شہری اور باقی سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، جن پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔

وزارت صحت نے سابقہ اطلاعات کی تردید کی ہے کہ مظاہروں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس نے گرین زون میں زخمیوں کے درمیان کسی گولی لگنے کے واقعہ کی بھی تردید کی۔

اور عراقی "السامریہ" چینل نے جمعہ کے روز ایک سیکیورٹی ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ وسطی بغداد میں سیکورٹی فورسز اور پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع نے جس کی شناخت چینل کی طرف سے ظاہر نہیں کی گئی، نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جب کہ مظاہرین نے وسطی بغداد میں گرین زون کے قریب میں بھی سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔

درایں اثنا الحکمہ گروپ کے سربراہ عمار الحکیم نے عراقی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہروں کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ اپنے پرامن فریم ورک سے الگ نہ ہوں۔

الحکیم نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس حساس حالات میں اعلیٰ ترین قومی مفاد کو ترجیح دیں۔

انہوں نے عراق میں انتخابی کمیشن اور عدالتی ادارے سے موصول ہونے والی اپیلوں اور اعتراض کرنے والی قوتوں کے اعتراضات کے "منصفانہ" حل پر زور دیا۔

انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی صدر تحریک کے رہ نما مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ انتخابی چیلنجوں کے لیے پرامن مظاہروں کو تشدد اور ریاست کو نیچا دکھانے کے احتجاج میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

الصدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کو پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔

گرین زون کے آس پاس کے علاقے میں گرین زون گیٹ کے قریب مظاہرین کے ایک خیمے کے اندر آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ان کے اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا۔

"اے ایف پی" کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد میں ایران نواز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

ایران نواز دھڑوں کے حامیوں نے گرین زون پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، جس میں بہت سے سفارت خانے شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے ان کا مقابلہ کیا۔

عراق میں ایرانی ملیشیا کے حامیوں نے جمعے کے روز بغداد کے گرین زون کے قریب سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔

دریں اثنا، عراقی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سیکیورٹی نے گرین زون کے آس پاس کے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔