.

تبوک کے میلے میں بچوں کی ٹرین تلے آنے والے بچے کی موت کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر تبوک میں ایک نمائش کے زیر انتظام میلے میں تین سالہ بچے ابراہیم البلوی کی اندوہ ناک موت نے لوگوں کو رنجیدہ کر دیا۔ یہ واقعہ گذشتہ روز پیش آیا جب ننھا ابراہیم بچوں کی ٹرین کے فولادی پہیوں کے بیچ آ کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سیکورٹی حکام نے پوسٹ مارٹم ہونے تک بچے کی میت کی حوالگی اور تدفین مؤخر کر دی ہے۔

ابراہیم کے چچا کاتب البلوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق ابراہیم اپنے والید ، والدہ اور ایک اور بھائی کے ساتھ میلے میں گیا تھا۔ اس کی والدہ کو کرونا کی دوسری ویکسین نہ لگنے کے سبب داخلے سے روک دیا گیا۔ دونوں بچے اپنے والد کے ساتھ میلے میں داخل ہو گئے۔

دونوں بچے ٹرین کی سواری کے لیے اس میں بیٹھ گئے جب کہ والد دیگر گیمز کے ٹکٹ لینے میں مصروف ہو گیا۔ اس دوران اچانک اس نے دیکھا کہ اس کا بیٹا ابراہیم ٹرین کے بلندی پر جانے کے وقت گاڑی سے پٹری پر گر گیا جب کہ دوسری گاڑی نے اس کو کچل دیا۔ اس منظر کو دیکھ کر ابراہیم کا باپ اور ایک ورکر نے مداخلت کر کے ٹرین کو روکا اور ابراہیم کو وہاں سے نکالا۔ ابراہیم کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اسے فوری طور پر ایک نجی گاڑی کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا جب کہ میلے میں کوئی ایمبولینس یا میڈیکل ٹیم موجود نہیں تھی۔

ابراہیم کے چچا کا کہنا تھا کہ "ہم اس واقعے میں کسی بھی شکل میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تا کہ لوگوں کی زندگی سے کھیلے جانے کا سلسلہ ختم ہو"۔

ابراہیم کے والد علی البلوی کے مطابق وہ واقعے کی تحقیقات اور اس کے نتائج کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹے کی لاش کو ہاتھ میں اٹھانا ان کی زندگی کا مشکل ترین لمحہ تھا جب کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ ابراہیم زندہ ہے یا نہیں!