.

غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 13 سالہ فلسطینی بچہ شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک فلسطینی بچے کو گولیاں مار دیں جس کےنتیجے میں وہ دم توڑ گیا۔

مقامی طبی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 13 سالہ محمد دعدس کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے معائنے سے پتا چلایا تو بچے کا دل کام کرنا چھوڑچکا تھا۔ اس کے پیٹے میں گولیاں لگی تھیں جس اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ بچے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کی زندگی بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

ادھر غرب اردن میں نابلس شہر میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ قابض فوج نے فلسطینیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور دھاتی گولیوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔

نابلس میں ہلال احمر کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ بیتا اور بیت دجن کے مقام پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" کے مطابق، شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے نزدیک واقع بیتہا اور بیت دجن قصبوں میں جمعہ کو پانچ دیگر فلسطینی زخمی ہوئے۔

بیتا کے رہائشی قصبے کے قریب ایک غیر سرکاری اسرائیلی بستی کے قیام کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایویٹار کو جولائی کے آغاز میں خالی کر دیا گیا تھا، لیکن اسرائیلی حکام اس کی قسمت کا فیصلہ کرنے تک فوج اس جگہ پر تعینات ہے۔ اگر اسرائیلی حکومت آباد کاروں کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو انہیں وہاں رہنے کی اجازت ہوگی۔

سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے غرب اردن میں قائم تمام اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔ اس وقت مغربی کنارے میں تقریباً 475,000 آباد کار رہتے ہیں، جب کہ فلسطینی آبادی کی تعداد 2.8 ملین ہے۔