.

برطانیہ اورفرانس کی جانب سے عراق کے وزیراعظم پرقاتلانہ حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اورفرانس نے عراق کے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پرقاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ لیزٹرس نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پرحملے کی مذمت کرتا ہے اوراس کے بعدان کی جانب سے ضبط وتحمل کی اپیل کی حمایت کرتا ہے۔

ٹرس نے ٹویٹرپر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پرحملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم عراقی حکومت، سیکورٹی فورسز اورعام لوگوں کے خلاف سیاسی تشدد کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘

فرانس نےالگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ عراق کے وزیراعظم کے قتل کی کوشش کی’’سخت ترین الفاظ میں‘‘مذمت کرتا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ فرانس اتوار کی صبح مصطفیٰ الکاظمی کے گھر پر قتل کی کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ’’فرانس عراق میں جمہوری عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔حال ہی میں اس جمہوری عمل کا مظہرعراقی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انتخابات کا اطمینان بخش اندازمیں انعقاد ہے۔‘‘

فرانس نے کہا کہ ’’وہ اس تناظرمیں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے، تشدد اور دھمکیوں کی کسی بھی شکل کو مسترد کرتا ہے اور وہ عراقی حکام اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اورصبروتحمل کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘

عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں واقع وزیراعظم کاظمی کی اقامت گاہ پر مسلح ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ انھیں اس حملے میں کوئی چوٹ نہیں پہنچی۔انھوں نے اس ڈرون حملے کے بعد اہلِ وطن سے صبروتحمل کی اپیل کی ہے۔

کاظمی مئی 2020 سے اقتدار میں ہیں۔گرین زون میں ان کی اقامت گاہ پرانھیں نشانہ بنانے کے لیے یہ پہلا حملہ ککیا گیا ہے۔یہ ڈرون حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراق کی سیاسی جماعتیں اس بات پرباہم دست وگریبان ہیں کہ گذشتہ ماہ ہونے والےانتخابات کے بعداگلی حکومت کون چلائے گا۔

ان انتخابات کے نتیجے میں ایران نواز نیم فوجی نیٹ ورک الحشدالشعبی کے سیاسی بازو فتح (الفتح) اتحاد کی پارلیمان میں نشستوں میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس گروپ نے انتخابی نتائج کو’’دھوکا دہی‘‘ پر مبنی قراردیا ہے۔