.

جوہری مذاکرات سے قبل خلیج عمان کے علاقے میں ایران کی جنگی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سالانہ فوجی جنگی مشقوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ان فوجی مشقوں میں ایرانی افواج کے سب ہی عسکری دھڑے شریک ہیں۔ ان مشقوں کا علاقہ خلیج عمان کی اہم سٹریٹیجک ساحلی پٹی ہے۔

ایرانی جنگی مشقوں کو ''ذوالفقار 1400‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان مشقوں میں ایرانی افواج کے بری، ہوائی اور بحری دستے شریک ہیں۔ ایرانی ٹیلی وژن کے مطابق خصوصی تربیت یافتہ اور ہتھیاروں سے لیس کمانڈوز بھی جنگی مشقوں میں شامل ہیں۔

ان مشقوں کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری بات چیت دوبارہ شروع ہونے میں صرف تین ہفتے رہ گئے ہیں۔ یہ بات چیت انتیس نومبر کو ویانا میں شروع ہو گی۔

جنگی مشقوں کا علاقہ اسٹریٹیجک نوعیت کی آبنائے ہُرمز سے صرف ایک کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ اسی آبنائے ہُرمز کے راستے دنیا کی بیس فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے۔ تیل کے بحری جہاز آبنائے ہُرمز سے گزر کر خلیج عُمان اور بحر ہند میں اپنا آگے کا سفر جاری رکھتے ہیں۔

ایرانی فوج نے خلیج عُمان کی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ ایک ملین مربع کلومیٹر ( تین لاکھ چھیاسی ہزار ایک سو میل) پر پھیلے وسیع علاقے میں اپنی سالانہ جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ مشقوں کا علاقہ مشرق میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک جا پہنچتا ہے۔ ان مشقوں میں فوج کے مشینی یا میکانائزڈ دستے بھی شریک ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ذوالفقار 1400 نامی مشقیں اصل میں اس کا تعین کریں گی کہ ملکی فوج کسی بھی غیر ملکی جارحیت، فوج کشی اور دھمکیوں کا سامنا کرنے کے لیے کس حد تک تیار اور چوکس ہے؟

ان مشقوں میں ایرانی فضائی فوج کے جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور ٹرانسپورٹ طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ خلیج عُمان میں ایرانی بحری فوج کے دستے حصہ لینے کے لیے موجود ہیں۔ ان میں تیز رفتار مانیٹرنگ کشتیاں، جنگی بحری جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2015 کی جوہری ڈیل سے سن 2018 میں یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تہران حکومت پر انتہائی سخت اقتصادی پابندیوں کا بھی نفاذ کر دیا تھا۔

ایران جوہری ڈیل کے منافی عمل کرتے ہوئے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بھی بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں ایران نے واضح کیا تھا کہ اِس وقت اُس کے پاس دو سو دس کلوگرام (چار سو تریسٹھ پاؤنڈ) ایسا یورینیم ہے، جو بیس فیصد سے زائد افزودہ ہے۔

سن 2015 کی ڈیل کے تحت ایران کو 3.67 فیصد سے بلند سطح کی یورینیم افزودگی کی ممانعت تھی۔ ایران نے یورینیم افزودگی کی شرح بڑھانے کا عمل ٹرمپ دور کی اقتصادی پابندیوں کے جواب میں شروع کیا تھا۔

اس جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اب بھی اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار سازی کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ ملکی جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے جاری رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک اور اسرائیل کے خدشات ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔