حساس وقت میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر کی بغداد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پارعسکری کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قآنی سوموار کے روز عراق کےدارالحکومت بغداد پہنچے ہیں۔ مسٹر قآنی ایک ایسے حساس وقت میں عراق کے دورے پر آئے ہیں جب دو روز قبل عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پر ڈرون طیاروں کے ذریعے قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد عراق اس وقت نازک دور سے گذر رہا ہے۔

عراقی وزیراعظم پرحملے میں ایران نواز عراقی عسکری گروپوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نےایک ہفتہ پیشتر وزیراعظم کے خلاف شرانگیز مہم شروع کررکھی تھی۔

العربیہ نے عراق کے پریس ذرائع کےحوالے سے بتایا ہے کہ قآنی نے عراقی دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد مختلف عراقی دھڑوں کے رہ نماؤں سے ملاقات کی۔

دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق انہوں نے الکاظمی سے بھی ملاقات کی جس کے دوران انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ ایران عراق کے کسی بھی عہدیدار کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہے۔

حساس وقت

جنرل قآنی کی عراق آمد موجودہ حساس وقت میں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دو روز قبل بغداد میں وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی رہائش گاہ پر ڈرون طیارے سے حملہ کیا تھا تھا تاہم وزیراعظم اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

الکاظمی کی رہائش گاہ پرحملے میں استعمال ہونے والا ڈرون اس سے قبل ایران نواز گروپوں کی طرف سے عراق میں مغربی اور امریکی افواج کے ٹھکانوں پر استعمال کرچکے ہیں۔

پچھلے مہینےعراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے خلاف الحشد ملیشیا کی مسلسل مخالفت سامنے آئی تھی۔ الفتح اتحاد گذشتہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بری طرح شکست سے دوچار ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں