.

سعودی عرب میں تیار فیکٹریوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انڈسٹریل سٹیز اینڈ ٹیکنیکل زون اتھارٹی ’مدن‘کے سرکاری ترجمان، مارکیٹنگ اور کارپوریٹ کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر قصی العبدالکریم نےکہا ہے کہ کاروباریوں، چھوٹے، درمیانے اور مائیکرو انٹرپرائزز کو سپورٹ کرنا’مدن‘ کے بنیادی اہداف اور اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔جس کا مقصد صنعت کو بااختیار بنانے اور مقامی مصنوعات کی پیداوار کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا اور سعودی وژن 2030 کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 35 فیصد تک پہنچانے کے اہداف کا حصہ ہے۔

سرمایہ کاری کے ماحول کا قیام

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے اپنے انٹرویو کے دوران قصی عبدالکریم نے مزید کہا کہ قومی صنعتی ترقی اور لاجسٹکس پروگرام "ندلب" میں "مدن" کو اقدامات سونپا قومی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔ اس تناظر میں "مدن" "سرمایہ کاری کا بہترین ماحول قائم کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور جدید اقتصادیات کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر منظور شدہ اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق جدید صنعتی سروس سے آراستہ تیار فیکٹریوں کی تعداد ایک ہزار سے زاید ہوگئی ہے۔ یہ فیکٹریاں 700 مربع میٹر سے 1500 مربع میٹر رقبے کے تیار کی گئی ہیں۔ ان میں سے 95 فیصد سے زیادہ چھوٹی صنعتوں اور انٹرپرینیورشپ پراجیکٹس کے لیے وقف ہیں۔

سعودی عرب میں مقامی سطح پر ڈرون طیاروں کی تیاری کے لیے 1500 مربع میٹر جگہ پرڈرون کی تیاری اور انٹرا ڈیفنس ٹیکنالوجیز کمپنی کے لیے کارخانہ قائم کیا گیا ہے۔ یہ کارخانہ ریاض کے دوسرے صنعتی شہر میں قائم کیا گیا ہے۔

چھوٹی صنعتوں کے لیے اراضی

اس کے علاوہ، موجودہ سال 2021 کے دوران، 1700 مربع میٹر 3000 مربع میٹر کے درمیان مختلف رقبوں پر مشتمل چھوٹی صنعتوں کے لیے زمینیں تیار کی گئیں۔اس مقصد کے لیے 1700 مربع میٹر کے114 پلاٹ جدہ اور الخرج انڈسٹریل سٹی اور اور دمام میں صنعتی زون کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

چھوٹے کارخانوں کی مصنوعات کے لیے 200 مربع میٹرجگہ کی فراہمی شروع کی جا رہی ہے۔

فنانسنگ کے حل

قصی العبدالکریم نے کہا کہ مذکورہ بالا کے علاوہ’مدن‘ سرکاری اور نجی ایجنسیوں کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ بہت سی خدمات اور مالیاتی حل فراہم کرتا ہے جو کاروباری افراد اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو اپنے پروجیکٹ شروع کرنے، نئی ملازمتیں تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

شہریوں کو کاروبار کے لیے آسان شرائط پر زمین اور قرض" اور فیکٹری اور قرض کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ شہریوں کو سعودی صنعتی ترقیاتی فنڈ اور "اسس" کے ذریعے ریڈی میڈ فیکٹریاں حاصل کرنے اور سوشل ڈیولپمنٹ بینک سے چار ملین ریال فنانسنگ کی اجازت دیتا ہے۔

سب سے زیادہ نمایاں صنعتیں

’مدن‘ کے ترجمان نے مزید کہا کہ صنعتی شہر قومی معیشت کے تمام اہم شعبوں میں ویلیو ایڈڈ سرمایہ کاری کو اپناتے ہیں جن میں سے کچھ پہلی بار سعودی عرب، خلیجی خطے، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں سعودی وژن 2030 کے مقاصد کے مطابق طبی اور غذائی تحفظ کی 23 صنعتیں12 صنعتی شہروں میں 360 ہزار مربع میٹر سے زیادہ کے کل رقبے پر تیار کی گئی ہیں۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے کی سپلائی چین کو مقامی بنانے کے لیے 23 فیکٹریاں قائم کی گئی ہیں۔