.
سعودی معیشت

غیر ملکیوں کو مکہ اور مدینہ میں ریئل اسٹیٹ فنڈز میں سرمایہ کاری کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں Capital Market Authority نے مالیاتی مارکیٹ کے اداروں کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حدود میں واقع اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے والے ریئل اسٹیٹ فنڈز میں غیر ملکیوں (غیر سعودی شہریوں) کی شراکت قبول کر سکتے ہیں۔

آج پیر کے روز جاری ایک بیان میں مذکورہ اتھارٹی نے مالیاتی اداروں کو تاکید کی ہے کہ وہ غیر سعودیوں کے لیے پراپرٹی کی ملکیت کے نظام کی پابندی کریں۔

الاستثمار في عقارات مكة والمدينة لغير السعوديين
الاستثمار في عقارات مكة والمدينة لغير السعوديين

اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ کیپیٹل مارکیٹ پر بطور فنڈنگ چینل اعتماد میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح سعودی ویژن 2030 کی بنیادوں کو تقویت دے گا۔ ویژن کا ایک اہم ہدف سعودی کیپیٹل مارکیٹ کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پر کشش بنانا ہے۔

سعودی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی 'سرمایہ کاری فنڈز' کے کردار کو مؤثر بنانے کے واسطے سرگرم ہے تا کہ انہیں اپنی حکمت عملی کے منصوبے کے ضمن میں فنڈنگ کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ اتھارٹی یہ امید رکھتی ہے کہ مذکورہ فنڈز مملکت کی معیشت میں کئی اہم سرگرمیوں کی فنڈنگ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان میں ریئل اسٹیٹ اور چھوٹی اور بڑی کمپنیوں کے سیکٹر اہم ترین ہیں۔