.

کویت میں حزب اللہ کا بھرتی کردہ گروہ پکڑا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ریاستی سیکورٹی کے ادارے نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ تعاون کرنے والے ایک گروہ کو پکڑ لیا ہے۔ اس گروہ پر شام اور یمن میں کام کرنے کے واسطے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا الزام ہے۔

کویت کے عربی اخبار "السياسہ" نے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پکڑا جانے والا گروہ چار افراد پر مشتمل ہے۔ ان میں ایک سابق رکن پارلیمنٹ کا بیٹا اور ایک سابق رکن پارلیمنٹ کا بھائی شامل ہیں۔ ریاستی سیکورٹی کا ادارہ چاروں افراد کے ساتھ مختلف الزامات کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان میں کویت میں لبنانی حزب اللہ کے لیے کالے دھن کو سفید کرنا ، حزب اللہ کے زیر سایہ کام کے لیے کویتی نوجوانوں کو بھرتی کرنا، حزب اللہ کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں شرکت کرنا اور شام اور یمن سے منشیات کی اسمگلنگ جیسے الزامات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملزمان نے پیشگی اجازت نامے کے بغیر مساجد سے عطایات جمع کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

کویتی ایڈوکیٹ صلاح الفہد کے مطابق کویت کے ریاستی سیکورٹی کے ادارے نے لبنانی ملیشیا "حزب اللہ" کو ایک نئی ضرب لگائی ہے۔ یہ العبدلی گروپ کو لگائی جانے والی آخری ضرب سے ملتی جلتی ہے۔ کویتی ایڈوکیٹ فہد الدوسری نے شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزارت داخلہ کو سپورٹ کریں تا کہ دہشت گرد جماعتوں کی حمایت کرنے والوں اور انہیں مالی رقوم اور تربیت فراہم کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جا سکے۔

کویت میں "حزب الله" کی تخریب کاری کس سلسلہ 1980ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ ملیشیا نے کویت میں شہریوں ، غیر ملکیوں ، سرکاری ، صنعتی اور تیل کی تنصیبات ، ہوائی اڈے اور سفارتی مشنوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ اس حوالے سے 1983ء کے دھماکے اور 1985ء میں کویت کے امیر شیخ جابر الاحمد الجابر الصباح پر قاتلانہ حملے کی کوشش نمایاں ترین کارروائیاں تھیں۔