.

’’ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا نےوزیراعظم کاظمی پرڈرون سے حملہ کیا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع گرین زون میں وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی اقامت گاہ پر ایران کی حمایت یافتہ ایک شیعہ ملیشیا نے بارود سے لدے ڈرون سے حملہ کیا تھا اور اس حملے میں استعمال کیا گیا ڈرون ایرانی ساختہ ہی تھا۔

اس بات کا انکشاف عراقی ملیشیاؤں کے قریبی ذرائع اور عراق کے سکیورٹی حکام نے سوموار کو کیا ہے۔ان ذرائع نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرزسے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پریہ معلومات افشا کی ہیں۔

ایران سے وابستہ ایک پیراملٹری گروپ کے ترجمان نے عراقی وزیراعظم پر حملے سے متعلق کسی قسم کے تبصرے سے انکارکیا ہے۔ایران سے وابستہ دوسرے ملیشیا گروپوں نے بھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔تہران میں ایرانی حکومت نے بھی اس واقعہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

بغداد کے انتہائی سکیورٹی والےعلاقے گرین زون میں واقع وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی اقامت گاہ کو اتوارکوعلی الصباح بارود سے لدے ایک ڈرون سے نشانہ بنایا گیا تھا لیکن مصطفیٰ الکاظمی اس حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔

انھوں نے اس حملے کے بعد ٹویٹر پرایک بیان میں کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ رو بہ صحت اورہشاش بشاش ہیں۔انھوں نے ہرکسی سے عراق کے مفاد میں صبروتحمل برقراررکھنے کی اپیل کی تھی۔

ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے ترجمان محمودالربیع نے اس قاتلانہ حملہ کے واقعے کو’’ڈھونگ‘‘ قرار دیاتھا۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا:’’میری توقع تویہ ہے کہ یہ ایک خودساختہ دھماکا ہے،اس کا مقصد ہفتے کے روز کے جرائم کی پردہ پوشی ہے تاکہ رائےعامہ پر یہی واقعہ چھایا رہے۔‘‘

اس سے ایک روز پہلے ایران نوازشیعہ ملیشیاؤں کے حامیوں نے گرین زون کے دروازوں کے باہردھرنا دیا تھا۔وہ گذشتہ ماہ عراق میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔اس سے ایک روزپہلے جمعہ کوسکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔