.

اماراتی وزیرخارجہ کا شامی صدر بشارالاسد سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال

گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں یواے ای کے کسی اعلیٰ عہدہ دار کا دمشق کا پہلا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے دمشق میں منگل کے روز شامی صدر بشارالاسد سے ملاقات کی ہے۔اماراتی وزیرخارجہ کا دورۂ شام دونوں ملکوں کےدرمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا مظہر ہے۔

شامی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیخ عبداللہ بن زاید اور بشارالاسد نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے نئے پہلووں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

بیان کے مطابق اماراتی وزیرخارجہ نے کہا کہ یو اے ای شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا اوروہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ بشارالاسد کی قیادت میں شام جنگ کی مشکلات پر قابوپالے گا۔

شیخ عبداللہ بن زاید شام میں گذشتہ ایک عشرے سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں دمشق پہنچنے والے یواے ای کے سب سے اعلیٰ عہدہ دار ہیں۔اس خانہ جنگی کے دوران میں بیشترعرب ممالک نے بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے سنی باغی گروپوں کی حمایت کی ہے۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیرانتظام المنارٹی وی کے مطابق اماراتی وزیرخارجہ اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ دمشق پہنچے ہیں۔شام کے حکومت نوازاخبار الوطن نے غیرسرکاری میڈیاذرائع کے حوالے سے ان کی آمد کی اطلاع دی تھی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کی کوششوں میں عرب ریاستوں میں پیش پیش رہا ہے۔اس نے اسی سال کے اوائل میں شام کوعرب لیگ میں دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔اس نے تین سال قبل دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔

تاہم یواے ای کے ایک قریبی اتحادی ملک امریکا کا کہنا ہے کہ وہ بشارالاسد کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے یاانھیں عالمی تنظیموں میں بحال کرنے کی کوششوں کی اس وقت تک حمایت نہیں کرتا ہے جب تک کہ شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی جاتی ہے۔