.

سرحد پار جرائم کی روک تھام کے خواہاں ہیں: سعودی اٹارنی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل سعود المعجب نے سرحد پار جرائم کے انسداد میں پبلک پراسیکیوشن کے اداروں کے کردار کو سراہا ہے۔ یہ ان جرائم کی روک تھام میں مربوط عمل کے نظام اور بین الاقوامی تعاون کے ضمن میں آتا ہے۔

المعجب نے یہ بات پیر کے روز قاہرہ میں ایک کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران میں کہی۔ یہ کانفرنس جرائم کی روک تھام میں پبلک پراسیکیوشن کے اداروں کے کردار سے متعلق تھی۔ سعودی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ علاقائی حدود پار کرنے والے جرائم میں دہشت گردی، منی لانڈرنگ اور اس کی فنڈنگ، انسانی تجارت اور انسانی اسمگلنگ شامل ہے۔ ان جرائم کے خطرات دنیا بھر کے ممالک میں تعددِ اطراف میں روپوش ہیں۔ اس کے نتیجے میں سماج کے امن اور اقتصادی تحفظ کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان جرائم کی روک تھام اور پھیلاؤ پر روک لگانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرے اور بھرپور اقدامات کرے۔

المعجب کے مطابق اس سلسلے میں بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں نے جو اہم مثبت اقدامات کیے ان میں بین الاقوامی منصوبوں اور سمجھوتوں کا حصہ بننا نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا مقصد مذکورہ مجرمانہ سرگرمیوں کے انسداد کی کوششوں کو یکجا کرنا ہے۔

المعجب نے باور کرایا کہ سعوی پبلک پراسیکیوشن جرائم کے ان نمونوں کی روک تھام کے راستے پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مملکت نے کئی سمجھوتوں اور معاہدوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

سعودی اٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں جرائم کے حوالے سے ڈیجیٹل معلومات اور شواہد کے تبادلے میں عدالتی تعاون کی سطح کو بلند کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔