.

فرانس سمیت یورپی یونین کے رکن ممالک کی اسرائیل کے یہودی آبادکاری کے منصوبے پرتنقید

فلسطینی این جی اوز کو دہشت گردگروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس سمیت یورپی یونین کے رکن ممالک ایسٹونیا،آئرلینڈ، ،ناروے اور البانیا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں میں توسیع کی شدیدمخالفت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ1967ء سے پہلے کی سرحدوں بشمول یروشلیم (مقبوضہ بیت المقدس) کے حوالے سے کسی قسم کی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلیم میں یہودی آبادکاری کے تعمیراتی منصوبوں پراسرائیل کوتنقید کا نشانہ بنایا ہے اور صہیونی ریاست کی جانب سے چھے فلسطینی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے۔

ایسٹونیا،آئرلینڈ، فرانس، ناروے اورالبانیا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم یہودی بستیوں کے توسیعی منصوبوں کی شدید مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں اور1967 کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں بشمول یروشلیم کی جغرافیائی حدبندی میں کسی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے۔‘‘

یورپی یونین کے ان رکن ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ای ون اور گیوت ہاماتوس سمیت مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیرفوری طور پرروک دے۔انھوں نے اسرائیل کوخبردارکیا کہ وہ 1300 سے زیادہ مکانات کی تعمیرکے ٹینڈرز پرمزید پیش رفت نہ کرے۔اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قریباً 3000 نئے مکانات کی تعمیرکا ارادہ رکھتا ہے۔

مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بستیاں غیرقانونی ہیں اور یہ دو ریاستی حل کے حصول اورفریقین کے درمیان ایک پائیدار اور جامع امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

یورپی ممالک نے اسرائیل کے چھے فلسطینی این جی اوز کودہشت گردگروہ قرار دینے کے فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام سنگین تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس طرح کے فیصلوں کے سیاسی، قانونی اور مالی لحاظ سے تنظیموں کے لیے دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ہم اسرائیلی حکام سے ان تنظیموں کو ددہشت گرد قراردینے کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کا جائزہ لیا جاسکے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان چھے گروپوں کے تنظیم پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین (پی ایف ایل پی) کے ساتھ تعلقات ہیں۔اسرائیل نے کہا ہے کہ ان تعلقات کے ثبوت میں شواہد کو کلاسیفائیڈ قراردیا گیا ہے۔ امریکااور یورپی یونین کے قانون کے تحت پی ایف ایل پی کودہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سول سوسائٹی اسرائیل اور فلسطین سمیت دنیا بھرمیں اچھی حکمرانی، انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین، جمہوری اقدار اور پائیدار ترقی میں اہم کردارادا کرتی ہے۔انھوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ ’’وہ ایسے یک طرفہ اقدامات سے گریزکریں جن سے دو ریاستی حل کے امکان کو نقصان پہنچے۔ہم اسرائیلیوں اورفلسطینیوں کے درمیان پائیدارامن کی جانب اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘‘

قبل ازیں گذشتہ ہفتے جرمنی اور 11 دیگریورپی ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کوبسانے کے لیے قریباً 3000 مکانوں کی تعمیر کے منصوبے پر عمل درآمد روک دے۔

اسرائیل اپنے زیرقبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر تاریخی ، سیاسی اورتورات کے حوالے کی بنا پر حق ملکیت کا دعوے دار ہے۔اس نے اب تک چار لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ یہودی آبادکاروں کو کم وبیش تیس لاکھ فلسطینیوں کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے میں لابسایا ہے اور مزید یہودیوں کو بھی وہاں بسانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔