.

امریکا کوقونصل خانہ دوبارہ کھولنے کے لیےاسرائیل کی اجازت کی ضرورت نہیں: فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزیراعظم نے کہا ہے کہ امریکا کو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلیم) میں اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کے لیے اسرائیل کی’’اجازت‘‘ کی ضرورت نہیں۔انھوں نے واشنگٹن پر زوردیا کہ وہ اپنے سفارتی وعدوں کا احترام کرے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں بدھ کو غیرملکی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئےفلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے کہا کہ امریکا کواپنے مشن کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی کی اجازت کی درکار نہیں ہے۔

صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے قبل ازیں فلسطینی امورکے تاریخی طورپرذمے دارسفارتی مشن کو مقبوضہ بیت المقدس میں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ان کے پیشرو صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےاس قونصل خانے کو بند کردیا تھا اور یروشلیم کواسرائیل کا’’غیرمنقسم دارالحکومت‘‘تسلیم کرلیا تھا۔انھوں نے امریکی سفارت خانہ بھی تل ابیب سے یروشلیم میں منتقل کردیاتھا۔

امریکا کا قونصل خانہ مغربی یروشلیم میں قائم تھا لیکن اس میں اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی یروشلیم میں قونصلر سروسزکا دفتر بھی شامل تھا۔فلسطینی متنازع شہر کے مشرقی حصے کواپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت قراردیتے ہیں۔

فلسطینی وزیراعظم نے اسرائیل کے دائیں بازو کے وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کے ردعمل میں یہ تبصرہ کیا ہے۔نفتالی بینیٹ کا کہناتھا:’’یروشلیم میں کسی اورامریکی قونصل خانے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘انھوں نے واضح طور پر کہاکہ ان کی حکومت فلسطینی مشن کی بحالی کے لیے واشنگٹن کےاقدامات کی مزاحمت کرے گی۔

اسرائیلی وزیرخارجہ یائرلاپیڈ نے اسی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اگرامریکا فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے صدرمقام رام اللہ میں اپنا سفارتی مشن کھول لیتا ہے تو اسرائیل کو اس فیصلے پرکوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اس کا محمداشتیہ نےترکی بہ ترکی یہ جواب دیا ہے کہ ’’رام اللہ یروشلیم نہیں اور یہ شہر فلسطین کا دارالحکومت بھی نہیں ہے۔‘‘انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اس ضمن میں اپنے وعدے کو پورا کرے گا۔

نفتالی بینیٹ اسرائیل کے سخت گیر سیاست دان ہیں اور وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں۔امریکا اگر ان کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس میں اپناقونصل خانہ دوبارہ کھول لیتا ہے تواس سے اسرائیلی وزیراعظم کے لیے نیا دردسرپیدا ہوجائے گا۔

البتہ اگروہ امریکی قونصل خانے کے منصوبے کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دیتے ہیں تو اس سے متنازع مقدس شہر پر فلسطینی دعووں کوتقویت ملے گی-یہ ایک ایسا مؤقف ہے جوان کے دائیں بازو کے اتحادیوں میں دراڑ ڈال دے گا اور ممکنہ طور پران کے نظریاتی طور پرمختلف آٹھ جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو منتشر کردے گا۔

محمد اشتیہ نے امریکا سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری میں توسیع کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔دریائے اردن کے مغربی کنارے میں واقع فلسطینی علاقے میں اس وقت قریباً 475,000 یہودی آبادکار بسائے جاچکے ہیں۔بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی یہ یہودی بستیاں غیرقانونی ہیں۔

فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ ’’اگرامریکا اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کو اس کی پیگاسس اسپائی ویئر مصنوعات پر بلیک لسٹ کرسکتا ہے تو اسے بستیوں سے برآمدات کی ’’منظوری‘‘ دینے کے قابل بھی ہونا چاہیے۔امریکا نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کی ٹیکنالوجی کی دو کمپینوں کو اپنے مفادات کے برعکس قرار دے کر بلیک لسٹ کردیاتھا۔

دریں اثناء عالمی بنک نے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ خسارے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے اور یہ 2021 میں 1.36 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ محمداشتیہ نے بتایا کہ انھوں نے امریکی کانگریس کے رام اللہ کا دورہ کرنے والے وفد سے بھی مالی مدد طلب کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے سال بھر میں ہمارے بجٹ خسارے کو کم کرنے کی حمایت بھی کی ہے اور میں نے آج کانگریس کے ارکان سے کہا تھا کہ وہ ضروراس مسئلے میں ہماری مدد کریں۔