.

خلیج بحران :کویت کا لبنانیوں کے لیے ویزوں کی تعداد محدود کرنے کا’زبانی‘ فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت لبنانی شہریوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد کومحدود کررہاہے۔اس نے یہ فیصلہ لبنان اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری بحران کے پیش نظر کیا ہے۔

کویت کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بدھ کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کوبتایاکہ لبنانیوں کو سیاحتی اورکاروباری ویزے کے اجراء اور منظوری کے عامل میں سختی لانے کازبانی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس ذریعے نے وضاحت کی ہے کہ اس ضمن میں سرکاری سطح پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور لبنان سے آنے والے زائرین کے ویزے معطل نہیں کیے گئے ہیں۔

ہمسایہ ملک سعودی عرب کی طرح کویت نے بھی بیروت سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے۔لبنان کے وزیراطلاعات جارج قرداحی کے یمن تنازع سے متعلق متنازع بیانات پراب خلیج میں ایک سفارتی بحران پیدا ہوچکا ہے۔انھوں نے ایک انٹرویو میں یمن میں جاری جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فوجی مداخلت پرتنقید کی تھی اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا حمایت کی تھی۔

ان کے متنازع بیان پرسعودی عرب اور دوسری خلیجی عرب ریاستوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور بیروت سے اپنے سفیروں کوواپس بلالیا ہے اور لبنانی سفیروں کو بےدخل کردیا ہے۔

کویت میں اس وقت قریباً50,000 لبنانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔کویت نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر لبنانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

سعودی عرب اوربحرین میں تعینات لبنان کے سفیروں نے بدھ کے روز بیروت میں وزیراعظم نجیب میقاتی سے ملاقات کی ہے۔اس میں ملک کی تارکین وطن کمیونٹی پر خلیج بحران کے اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے دفترسے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے لبنان اور خلیجی ریاستوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور ان ممالک میں رہنے والے لبنانی مفادات پرمرتب ہونے والے منفی اثرات پراپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

ایک تھنک ٹینک خلیجی لیبرمارکیٹس اینڈ مائیگریشن کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ لبنانی خلیجی عرب ریاستوں میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔وہ لبنان کی کمزور معیشت کے لیےایک اہم ’’لائف لائن‘‘ مہیاکرتے ہیں۔

اب لبنان اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان محاذآرائی طاقتورشیعہ تحریک حزب اللہ کے خلاف تصادم میں بدل چکی ہے۔اس ملیشیا کو سنی پاورہاؤس سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران کی حمایت حاصل ہے۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ’’حزب اللہ کے لبنانی سیاست پرغلبے نےلبنان سے امورنمٹانے کو بے معنی بنادیا ہے۔‘‘

دریں اثناءمقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کویت میں اس وقت حزب اللہ کی مالی معاونت کے الزام میں سولہ کویتی شہری پابندسلاسل ہیں۔ کویت نے2015ء میں یہ بتایا تھا کہ اس نے ایران اورحزب اللہ کے ساتھ ملی بھگت سے سازشوں میں ملوث ایک سیل کو ختم کر دیا ہے۔

سعودی عرب نے خلیج بحران کے بعد لبنانی درآمدات پر پابندی عاید کردی ہے۔لبنان کے ایوان صنعت وتجارت کے مطابق سعودی عرب ملک کی تیسری سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔2020 میں لبنان کی برآمدات کاچھے فی صد مال سعودی عرب کو بھیجا گیا تھا۔اس کی مالیت قریباً 21 کروڑ 70 لاکھ ڈالربنتی ہے۔