.

شام کایواے ای کی فرموں کےساتھ 300 میگاواٹ کے بجلی گھرکی تعمیرکامعاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے دارالحکومت دمشق کے قریب شمسی توانائی پلانٹ کی تعمیر کے لیے متحدہ عرب امارات کی فرموں کے ساتھ معاہدے پردست خط کیے ہیں۔

اس معاہدے کی اطلاع متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کی دمشق میں صدر بشارالاسد سے ملاقات کے دو دن بعد سامنے آئی ہے۔وہ شام میں ایک عشرہ قبل جنگ کے آغاز کے بعد صدر بشارالاسد سے ملاقات کرنے والے یواے ای کے پہلے اعلیٰ عہدہ دار ہیں۔

اس دورے کو بشارالاسد کی سفارتی تنہائی کے خاتمے کی علاقائی کوششوں کی علامت کے طور پردیکھا جارہا ہے کیونکہ شام برسوں کے تنازعات کی وجہ سے بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے دوچارہے اور مغربی پابندیوں کی وجہ سے وہ مزید مشکلات کا شکار ہوچکاہے۔

شام کے سرکاری خبررساں ادارے سانا نے بتایا کہ وزارت بجلی اوراماراتی فرموں کے کنسورشیم نے دمشق کے مضافاتی علاقے میں 300 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل شمسی توانائی کے پلانٹ کی تنصیب کے معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔

شامی حکومت نے ابتدائی طور پر گذشتہ ماہ اس منصوبے کی منظوری دی تھی اور شامی وزیرمعیشت سمیرالخلیل نے اسے شام میں مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیےمثبت اشارہ قراردیا تھا۔

اس وقت یواے ای کی اقتصادی امور کی وزارت نے کہا تھا کہ وہ شام کے ساتھ ’’اقتصادی تعاون بڑھانے اورمستقبل میں نئے شعبوں کی تلاش کے منصوبوں" پرسرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے شام میں جنگ کے آغاز کے قریباً ایک سال کے بعد فروری 2012ء میں دمشق میں ایران کی حمایت یافتہ حکومت سے تعلقات منقطع کر لیےتھے۔اس نے اس کے کوئی ساڑھے چھے سال کے بعد دسمبر2018 میں دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھااوررواں سال مارچ میں اس نے شام کی عرب لیگ میں واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔

شام میں جنگ کی وجہ سے پاورگرڈ اسٹیشن تباہ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے برقی رو کی ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور ملک کے بعض علاقوں میں چوبیس چوبیس گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔اب ایندھن کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔

شام کے اقتصادی امور کے وزیرنے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ جنگ کےآغاز سے توانائی کے شعبے کو ہونے والے براہ راست اور بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ قریباً 100 ارب ڈالر ہے۔

اس کےعلاوہ گذشتہ ماہ وزارتِ بجلی نے جنگ زدہ ملک کے ایک وسطی صوبے میں بجلی گھر کی بحالی کے لیے ایرانی فرم کے ساتھ ساڑھے 11کروڑڈالرمالیت کے معاہدے پردست خط کیے تھے۔