.

سعودی عرب کا ایتھوپیا کے تمام متحارب فریقین پر جنگ بندی کے لیے زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے افریقی ملک ایتھوپیا میں ہونے والے واقعات اور لڑائی کے جاری رہنے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متحارب فریقین پر فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

مملکت نے تمام فریقوں سے فائر بندی اور تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے پر زور دیا۔

سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق وزارت خٰارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں ایتھوپیا کی تازہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے لڑائی فوری بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ بات چیت کی طرف لوٹیں اور تنازعات کا پرامن حل تلاش کریں۔ امدادی اور انسانی تنظیموں کو متنازع علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت دیں تاکہ جنگ سے م متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

قابل ذکر ہے کہ شمالی ایتھوپیا میں رواں ماہ نومبر 2020 کے آغاز میں اس وقت سے شدید لڑائی جاری ہے جب وزیر اعظم ابی احمد نے ٹیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ کی قیادت میں علاقائی حکام کو ختم کرنے کے لیے فوج بھیجی تھی۔ ادیس ابابا نے ٹیگرائے پر فوجی کیمپوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا تھا۔

گذشتہ برس ابی احمد نے 28 نومبر کو اپنی جیت کا اعلان کیا لیکن جون میں جنگجوؤں نے ٹیگرائے کے زیادہ تر حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور پڑوسی عفر اور امہرا کے علاقوں میں اپنی جارحیت جاری رکھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جمعرات کو ایتھوپیا نے ٹئیگرائے باغیوں کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اپنی شرائط کا اعلان کیا تھا۔ یہ پیش رفت بین الاقوامی ایلچیوں کی جانب سے کئی دنوں سےلڑائی روکنے اور سخت سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان دینا مفتی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ممکنہ بات چیت کے لیے شرائط میں باغیوں کا عفر اور امہرا کے علاقوں سے انخلاء شامل ہوگا۔